انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 362

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۶۲ دیبا چه تفسیر القرآن دیکھا اور پوچھا اتنی مدت کے بعد ملنے پر آخر یہ سلوک کیوں ؟ بیوی نے کہا کیا تم کو شرم نہیں آتی خدا کا رسول اُس خطرہ کی جگہ پر جا رہا ہے اور تم اپنی بیوی سے پیار کرنے کی جرات کرتے ہو! پہلے جاؤ اور اپنا فرض ادا کرو اس کے بعد یہ باتیں دیکھی جائیں گی وہ صحابی فوراً گھر سے باہر نکل - گئے ۔ اپنی سواری پر زین کسی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین منزل پر جا کر مل گئے ۔ کفار تو یہ سمجھتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان افواہوں کی بناء پر بے سوچے سمجھے شامی لشکروں پر جا پڑیں گے ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلامی اخلاق کے تابع تھے۔ جب آپ شام کے قریب تبوک مقام پر پہنچے تو آپ نے ادھر اُدھر آدمی بھیجے تا کہ وہ معلوم کریں کہ حقیقت کیا ہے اور یہ سفراء متفقہ طور پر یہ خبریں لائے کہ کوئی شامی لشکر اس وقت جمع نہیں ہو رہا۔ اس پر کچھ دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہرے اور ارد گرد کے بعض قبائل سے معاہدات کر کے بغیر لڑائی کے واپس آگئے ۔ یہ کل سفر آپ کا دواره دو اڑھائی مہینے کا تھا۔ جب مدینہ کے منافقوں کو معلوم ہوا کہ لڑائی بھڑائی تو کچھ نہیں ہوئی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے واپس آرہے ہیں تو انہوں نے سمجھ لیا کہ ہماری منافقانہ چالوں کا را از آب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہو گیا ہے اور غالبا اب ہم سزا سے نہیں بچیں گے ۔ تب انہوں نے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر چند آدمی ایک ایسے رستہ پر بٹھا دیئے جو نہایت تنگ تھا اور جس پر صرف ایک ایک سوار گزرسکتا تھا۔ جب آپ اس جگہ کے قریب پہنچے تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے وحی سے بتا دیا کہ آگے دشمن راستہ کے دونوں طرف چھپا بیٹھا ہے۔ آپ نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ جاؤ اور وہاں جا کر دیکھو ۔ وہ سواری کو تیز کر کے وہاں پہنچے تو انہوں نے وہاں چند آدمی چھپے ہوئے دیکھے جو اس طرح چھپے بیٹھے تھے جیسا کہ حملہ کرنے والے بیٹھا کرتے ہیں ۔ ان کے پہنچنے پر وہ وہاں سے بھاگ گئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا تعاقب کرنا مناسب نہ معلوم ہوا ۔ تھے قسم قسم کی جب آپ مدینہ پہنچے تو منافقوں نے جو اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے معذرتیں کرنی شروع کر دیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو قبول کر لیا ۔ لیکن اب وقت آگیا تھا کہ منافقوں کی حقیقت مسلمانوں پر آشکارا کر دی جائے ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے وحی سے حکم دیا کہ قبا کی وہ مسجد جو منافقوں نے اس لئے بنائی تھی