انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 342

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۴۲ دیبا چه تفسیر القرآن یہی تھی کہ خدائے واحد کی توحید اور اس کی تبلیغ کو دنیا میں قائم کر دیں۔ لشکر کے بعد لشکرگزر رہا تھا کہ اتنے میں اشجع قبیلے کا لشکرگزرا۔ اسلام کی محبت اور اس کے لئے قربان ہونے کا جوش ان کے چہروں سے عیاں اور ان ۔ ان کے نعروں سے ظاہر تھا۔ ابوسفیان نے کہا۔ عباس ! یہ کون ہیں ؟ عباس ہیں؟ نے کہا یہ اشجع قبیلہ ہے ۔ ابوسفیان نے حیرت سے عباس کا منہ دیکھا اور کہا سارے عرب میں ان سے زیادہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ عباس نے کہا یہ خدا کا فضل ہے جب اُس نے چاہا ان کے دلوں میں اسلام کی محبت داخل ہو گئی ۔ سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کا لشکر لئے ہوئے گزرے۔ یہ لوگ دو ہزار کی تعداد میں تھے اور سر سے پاؤں تک زرہ بکتروں میں چھپے ہوئے تھے ۔ حضرت عمرؓ ان کی صفوں کو درست کرتے چلے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے قدموں کو سنبھال کر چلو تا کہ صفوں کا فاصلہ ٹھیک رہے۔ ان پرانے فدا کارانِ اسلام کا جوش اور ان کا عزم اور ان کا ولولہ ان کے چہروں سے ٹپکا پڑتا تھا ۔ ابوسفیان نے ان کو دیکھا تو اس کا دل دہل گیا ۔ اس نے پوچھا عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار و مہاجرین کے لشکر میں جا رہے ہیں ۔ ابوسفیان جواب دیا اس لشکر کا مقابلہ کرنے کی دنیا میں کس کو طاقت ہے۔ کو طاقت ہے ۔ پھر وہ حضرت عباس سے مخاطب ہوا اور کہا عباس ! تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا میں سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔ عباس نے کہا اب بھی تیرے دل کی آنکھیں نہیں کھلیں یہ بادشاہت نہیں یہ تو نبوت ہے۔ ابوسفیان نے کہاہاں ہاں اچھا پھر نبوت ہی سہی ۔ ۳۵۴ نے جواب جس وقت یہ لشکر ابوسفیان کے سامنے سے گزر رہا تھا انصار کے کمانڈ رسعد بن عبادہؓ نے ابو سفیان کو دیکھ کر کہا آج خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مکہ میں داخل ہونا تلوار کے زور سے حلال کر دیا ہے ۔ آج قریشی قوم ذلیل کر دی جائے گی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان کے پاس سے سے گزرے گزر ۔ تو اس نے بلند آواز کہا سے يَا رَسُولَ اللہ کیا ! آپ نے اپنی قوم کے قتل کی اجازت دے دی ہے؟ ابھی ابھی انصار کے سردار سعد اور ان کے ساتھی ایسا ایسا کہہ رہے تھے۔ انہوں نے بلند آواز یہ کہا ہے آج لڑائی ہو گی اور مکہ کی حرمت آج ہم کو لڑائی سے باز نہیں رکھ سکے گی اور قریش کو ہم ذلیل کر کے چھوڑیں گے يَا رَسُولَ الله! آپ تو دنیا میں سب سے