انوارالعلوم (جلد 20) — Page 338
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۳۸ دیبا چه تفسیر القرآن سے جو فضا پر طاری تھی زیادہ سے زیادہ سے زیادہ خوف زدہ ہوتے جاتے تے تھے۔ آخر انہوں نے مشورہ کر کے ابوسفیان کو پھر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مکہ سے باہر نکل کر پتہ تو لے کہ مسلمان کیا کرنا چاہتے ہیں ۔ مکہ سے ایک منزل باہر نکلنے پر ہی ابوسفیان نے رات کے وقت جنگل کو آگ سے روشن پایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے دیا تھا کہ تمام خیموں کے آگے آگ جلائی جائے ۔ جنگل میں دس ہزار اشخاص کے لئے خیموں کے آگے بھڑکتی ہوئی آگ ایک ہیت ناک نظارہ پیش کر رہی تھی ۔ ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا یہ سے پوچھا یہ کیا ہے؟ کیا آ ؟ کیا آسمان سے کوئی لشکر اُترا ہے؟ کیونکہ عرب کی کسی قوم کا لشکر اتنا بڑا نہیں ہے۔ اس کے ساتھیوں نے مختلف قبائل کے نام لئے لیکن اس نے کہا نہیں نہیں ، عرب کے قبائل میں سے کسی قوم کا لشکر بھی اتنا بڑا کہاں ہو سکتا ہے ۔ وہ یہ بات کر ہی رہا تھا کہ اندھیرے میں سے آواز آئی ابو حنظلہ ! ( یہ ابوسفیان کی کنیت تھی ) ابو سفیان نے کہا عباس ! تم یہاں کہاں؟ اُنہوں نے جواب دیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر سامنے ہے اور اگر تم لوگوں نے جلد جلد کوئی تدبیر نہ کر لی تو شکست اور ذلت تمہارے لئے بالکل تیار ہے۔ چونکہ عباس ابوسفیان کے پُرانے دوست تھے اس لیے یہ بات کرنے کے بعد انہوں نے ابوسفیان سے اصرار کیا کہ وہ ان کے ساتھ سواری پر بیٹھ جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ۔ چنانچہ انہوں نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اونٹ پر اپنے ساتھ بٹھا لیا اور اُونٹ کو ایڑی لگا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں پہنچے ۔ حضرت عباس ڈرتے تھے کہ حضرت عمرؓ جو ان کے ساتھ پہرہ پر مقرر تھے کہیں اس کو قتل نہ کر دیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی فرما چکے تھے کہ اگر ابوسفیان تم میں سے کسی کو ملے تو اُسے قتل نہ کرنا۔ یہ سارا نظارہ ابوسفیان کے دل میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کر چکا تھا۔ ابوسفیان نے دیکھا کہ چند ہی سال پہلے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف ایک ساتھی کے ساتھ مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن ابھی سات ہی سال گزرے ہیں کہ وہ دس ہزار قد وسیوں سمیت مکہ پر بلا ظلم اور بلا تعدی کے جائز طور پر حملہ آور ہوا ہے اور مکہ والوں میں طاقت نہیں کہ اس کو روک سکیں ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس تک پہنچتے پہنچتے کچھ ان خیالات کی وجہ سے اور کچھ دہشت اور خوف کی وجہ سے ابوسفیان مبہوت سا ہو چکا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم