انوارالعلوم (جلد 20) — Page 329
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۲۹ دیبا چه تفسیر القرآن سے آپ کی لڑائی ہوئی تھی اور میرے رشتہ دار اس لڑائی میں مارے گئے تھے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں ان کو زہر دے دوں ۔ اگر ان کا کاروبار انسانی کا روبار ہو گا تو ہمیں ان سے نجات حاصل ہو جائے گی اور اگر یہ واقعہ میں نبی ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان کو خود بچا لے گا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ بات سن کر اُسے معاف فرمادیا ۳۴۳ اور اُس کی سزا جو یقینا قتل تھی نہ دی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح اپنے مارنے والوں اور اپنے دوستوں کے مارنے والوں کو بخش دیا کرتے تھے اور در حقیقت اُسی وقت آپ سزاد یا کرتے تھے جب کسی شخص کا زندہ رہنا آئندہ بہت سے فتنوں کا موجب ہو سکتا تھا۔ طواف کعبہ ہجرت کے سان کے ساتویں سال فروری ۶۲۹ ۶۲۹۷ء میں معاہدہ کی رو سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کے لئے جانا تھا ۔ چنانچہ جب وہ وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریباً دو ہزار آدمیوں سمیت طواف کعبہ کے لئے روانہ ہوئے ۔ جب آپ مر الظهران تک پہنچے جو مکہ سے ایک پڑاؤ پر ہے تو معاہدہ کے مطابق آپ نے تمام بھاری ہتھیار اور زر ہیں وہاں جمع کر دیں اور خود اپنے صحابہ سمیت معاہدہ کے مطابق صرف نیام بند تلواروں کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے ۔ سات سالہ جلا وطنی کے بعد مہاجرین کا مکہ میں داخل ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی ۔ اُن کے دل ایک طرف ان لمبے مظالم کی یاد کر کے خون بہا رہے تھے جو مکہ میں ان پر کئے جاتے تھے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کے اس فضل کو دیکھ کر کہ پھر خدا تعالیٰ نے انہیں کعبہ کے طواف کا موقع نصیب کیا ہے وہ خوش بھی ہو رہے تھے ۔ مکہ کے لوگ مکہ سے نکل کر پہاڑ کی چوٹیوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے۔ مسلمانوں کا دل چاہتا تھا کہ آج وہ ان پر ظاہر کر دیں کہ خدا تعالیٰ نے انہیں پھر مکہ میں داخل ہونے کی توفیق بخشی یا نہیں ۔ چنانچہ عبداللہ بن رواحہ نے اس موقع پر جنگی گیت گانے شروع کئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا اور فرمایا۔ ایسے شعر نہ پڑھو بلکہ یوں کہو کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں ، وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کی مدد کی اور مؤمنوں کو ذلت کے گڑھے سے نکال کر اونچا کیا۔ صرف خدا ہی ہے جس نے دشمنوں کو ان کے سامنے سے بھگا دیا ۔ طواف کعبہ اور سعی بین الصفاء والمروہ سے فراغت کے بعد آپ صحابہ سمیت تین دن تک مکہ میں ٹھہرے۔ حضرت عباس کی