انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 284

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۸۴ دیبا چه تفسیر القرآن حلیف قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاد کا فیصلہ مانیں گے ۔ جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا ۔ لیکن اُس وقت یہود میں اختلاف ہو گیا۔ یہود میں سے بعض نے کہا کہ ہماری قوم نے غداری کی ہے اور مسلمانوں کے رویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اُن کا مذہب سچا ہے وہ لوگ اپنا مذہب ترک کر کے اسلام میں داخل ہو گئے ۔ ایک شخص عمرو بن سعدی نے جو اس قوم کے سرداروں میں سے تھا اپنی قوم کو ملامت کی اور کہا کہ تم نے غداری کی ہے کہ معاہدہ توڑا ہے۔ اب یا مسلمان ہو جاؤ یا جزیہ پر راضی ہو جاؤ۔ یہود نے کہا نہ مسلمان ہوں گے نہ جزیہ دیں گے کہ اس سے قتل ہونا اچھا ہے ۔ پھر اُن سے اُس نے کہا میں تم سے بُری ہوں ۔ اور یہ کہہ کر قلعہ سے نکل کر باہر چل دیا۔ جب وہ قلعہ سے باہر نکل رہا تھا تو مسلمانوں کے ایک دستہ نے جس کے سردار محمد بن مسلمہ تھے اُسے دیکھ لیا اور اُس سے پوچھا کہ وہ کون ہے؟ اُس نے بتایا کہ میں فلاں ہوں ۔ اس پر محمد بن مسلمہ نے فرمایا اللهُمَّ لَا تَحْرِمُنِي اِقَا لَةَ عَشَرَاتِ الْكِرَامِ ۹۴ یعنی آپ سلامتی سے چلے جائیے اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی ! الہی ! مجھے شریفوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے نیک عمل سے کبھی محروم نہ کیجیو۔ یعنی یہ شخص چونکہ اپنے فعل پر اور اپنی قوم کے فعل پر پچھتاتا ہے تو ہمارا بھی اخلاقی فرض ہے کہ اُسے معاف کر دیں اس لئے میں نے اسے گرفتار نہیں کیا اور جانے دیا ہے۔ خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایسے ہی نیک کاموں کی توفیق بخشتا رہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے محمد بن مسلمہ کو سر زنش نہیں کی کہ کیوں اُس یہودی کو چھوڑ دیا بلکہ اُس کے فعل کو سراہا۔ بنو قریظہ کے اپنے مقرر کردہ حکم یہ اوپر کے واقعات انفرادی تھے۔ بنو قریظہ بحیثیت قوم اپنی ضد پر قائم رہے اور سعد کا فیصلہ تو رات کے مطابق تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے سعد کے فیصلہ پر اصرار کیا ۔ رسول کے بہ اصرار کیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُن کے اس مطالبہ کو مان مان لیا لیا۔ ۔ سعد سعد کو جو جنگ میں زخمی ہو چکے تھے اطلاع دی دی کہ کہ تمہارا تمہارا فیصلہ بنو قریظہ تسلیم کرتے ہیں آکر فیصلہ کرو۔ اس تجویز کا اعلان ہوتے ہی اوس قبیلہ کے لوگ جو بنو قریظہ کے دیر سے حلیف چلے آئے تھے وہ سعد کے پاس دوڑ کر گئے اور اُنہوں نے اصرار کرنا شروع کیا