انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 268

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶۸ دیبا چه تفسیر القرآن اندازہ زیادہ صحیح ہے اور اگر اور کچھ نہیں تو یہ لشکر اٹھارہ میں ہزار کا تو ضرور ہوگا۔ مدینہ ایک معمولی قصبہ تھا۔ اس قصبہ کے خلاف سارے عرب کی چڑھائی کوئی معمولی نہیں تھی ۔ مدینہ کے مرد جمع کر کے (جن میں بوڑھے، جوان اور بچے بھی شامل ہوں ) صرف تین ہزار آدمی نکل سکتے تھے اس کے برخلاف دشمن کی فوج میں اور چوبیس ہزار کے درمیان تھی اور پھر وہ سب کے سب فوجی آدمی تھے ۔ جوان اور لڑنے کے قابل تھے ۔ کیونکہ جب شہر میں رہ کر حفاظت کا سوال پیدا ہوتا ہے تو اس میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہو جاتے ہیں ۔ مگر جب دُور دراز مقام پر لشکر چڑھائی کر کے جاتا ہے تو اُس میں صرف جوان اور مضبوط آدمی ہوتے ہیں ۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ کفار کے لشکر میں بیس ہزار یا پچیس ہزار جتنے بھی آدمی تھے وہ سب کے سب مضبوط ، جوان اور تجربہ کار سپاہی تھے ۔ لیکن مدینہ کے کل مردوں کی تعداد بچوں اور اپاہچوں کو ملا کر بمشکل تین ہزار ہوتی تھی ۔ ظاہر ہے کہ ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر مدینہ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سمجھی جائے تو دشمن کی تعداد چالیس ہزار سمجھنی چاہئے اور اگر دشمن کے لشکر کی تعداد بیس ہزار سمجھی جائے تو مدینہ کے سپاہیوں کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار فرض کرنی چاہئے ۔ جب اس لشکر کے جمع ہونے اور حملہ کی تیاریوں کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ اس موقع پر کیا کرنا چاہئے ۔ صحابہ میں سلمان فارسی سے جو سب سے پہلے فارسی مسلمان تھے دریافت فرمایا کہ تمہارے ملک میں ایسے مو ایسے موقع پر کیا کیا کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا يَا رَسُولَ الله! جب شہر بے حفاظت ہو اور سپاہی تھوڑے ہوں تو ہمارے ملک کے لوگ خندق کھود کر اُس کے اندر محصور ہو جایا کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی یہ تجویز پسند فرمائی ۔ مدینہ کے ایک طرف ٹیلے تھے دوسری طرف ایسے محلے تھے جن کے مکانات ایک دوسرے سے پیوستہ تھے اور دشمن صرف چند گلیوں میں سے ہو کر آسکتا تھا۔ تیسری طرف کچھ مکانات تھے اور کچھ باغات اور کچھ فاصلہ پر یہودی قبیلہ بنو قریظہ کے قلعے تھے۔ یہ قبیلہ چونکہ مسلمانوں سے اتحاد کا معاہدہ کر چکا تھا اس لیے یہ سمت بھی محفوظ سمجھ لی گئی تھی ۔ چوتھی طرف کھلا میدان تھا اور اس طرف سے زیادہ خطرہ ہو سکتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اس کھلے میدان کی طرف خندق بنا دی جائے تا کہ دشمن اچانک شہر میں داخل نہ ہو سکے ۔ چنانچہ آپ نے دس دس گز کا حصہ کھولنے صلى الله