انوارالعلوم (جلد 20) — Page 262
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶۲ دیبا چه تفسیر القرآن اُسے نقصان پہنچا سکتا تھا۔ حبیب نے اُس کے چہرے سے پریشانی کو بھانپ لیا اور کہا کہ کیا تم خیال کرتی ہو کہ میں تمہارے بچے کو قتل کر دونگا ؟ یہ خیال کبھی دل میں نہ لاؤ میں ایسا بر افعل نہیں کر سکتا ۔ مسلمان دھوکا باز نہیں ہوتے ۔ وہ عورت خبیب کے اس دیانتدارانہ اور صحیح طریق عمل سے بہت متاثر ہوئی ۔ اس بات کو اُس نے ہمیشہ یاد رکھا اور ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ میں نے خبیب ساقیدی کوئی نہیں دیکھا۔ آخر کار مکہ والے حبیب کو ایک کھلے میدان میں لے گئے تا اُس کو قتل کر کے جشن منائیں ۔ جب اُن کے قتل کا وقت آن پہنچا تو حبیب نے کہا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔ قریش نے اُن کی یہ بات مان لی اور خبیب نے سب کے سامنے اس دنیا میں آخری بار اپنے اللہ کی عبادت کی ۔ جب وہ نماز ختم کر چکے تو اُنہوں نے کہا کہ میں اپنی نماز جاری رکھنا چاہتا تھا مگر اس خیال سے ختم کر دی ہے کہ کہیں تم یہ نہ سمجھو کہ میں مرنے سے ڈرتا ہوں ۔ پھر آرام سے اپنا سر قاتل کے سامنے رکھ دیا اور ایسا کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے : وَلَسْتُ أَبَالِي حِينَ اُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ جَنْبِ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَّشَأْ يُبَارِكُ عَلَى أَوْصَالِ شِلْمٍ مُمَزَّعٍ ۲۷۲ یعنی جبکہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے پرواہ نہیں ہے کہ میں کس پہلو پر قتل ہو کر گروں ۔ یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے۔ اور اگر میرا خدا چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔ حبیب نے ابھی یہ شعر ختم نہ کیے تھے کہ جلاد کی تلوار اُن کی گردن پر پڑی اور اُن کا سرخاک پر آ گرا۔ جو لوگ یہ جشن منانے کے لئے جمع ہوئے تھے اُن میں ایک شخص سعید بن عامر بھی تھا جو بعد میں مسلمان ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ جب کبھی خبیب کے قتل کا ذکر سعید کے سامنے ہوتا تو اس کو غش آجایا کرتا ۔ ۲۷۳ دوسرا قیدی زید بھی قتل کرنے کے لئے باہر لے جایا گیا۔ اس تماشہ کو دیکھنے والوں میں ابوسفیان رئیس مکہ بھی تھا۔ وہ زید کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا کہ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ محمد تمہاری جگہ پر ہوا اور تم اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہو؟ زید نے بڑے غصہ سے جواب دیا کہ ابوسفیان ! تم کیا کہتے ہو؟ خدا کی قسم! میرے لئے مرنا اس سے بہتر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے صلى الله