انوارالعلوم (جلد 20) — Page 12
انوار العلوم جلد ۲۰ اله اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک رہو بار بار کہتے تھے کہ لوگ ہمارے متعلق کیا کہتے ہوں گے ۔ مگر میں نے کہا جب ہمارے ملک میں انگریز جاتا ہے تو کیا وہ شلوار پہنتا ہے؟ اگر وہ شلوار نہیں پہنتا تو میں پتلون کیوں پہنوں ۔ وہ کہتے تھے عورتیں آتی ہیں تو بُرا مناتی ہیں کیونکہ اس لباس میں وہ آدمی کو ننگا مجھتی ہیں ۔ میں نے کہا میں تو کپڑے۔ ے پہنے ہوئے ہوں اور مجھے کپڑے نظر آرہے ہیں ۔ ایک دن سرڈینی سن راس آئے جو لنڈن میں ایک کالج کے پرنسپل تھے ۔ ان کے ساتھ دو اور بھی پروفیسر تھے۔ میں نے کہا۔ سرڈینی سن راس ! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں اگر آپ بے تکلفی سے بتائیں ۔ انہوں نے کہا پوچھ لیجئے ۔ میں نے کہا جو لباس میں پہنے ہوئے ہوں ، کیا آپ اور آپ کے دوست اسے برا تو نہیں مناتے ؟ انہوں نے کہا سچ پوچھیں تو ہم بُرا مناتے ہیں ۔ میں نے کہا آپ جب ہندوستان گئے تھے تو کیا آپ نے شلوار پہنی تھی اور اگر نہیں پہنی تھی تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ انگریز خود تو دوسروں کا لباس نہیں پہنتے مگر یہ حق رکھتے ہیں کہ دوسروں کو اپنا لباس پہننے پر مجبور کر دیں ۔ کہنے لگے یہ بات ان لاجیکل تو ہے لیکن ہم بُرا ضرور مناتے ہیں ۔ پھر میں نے کہا میں ایک اور سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ بُرا تو مناتے ہیں مگر آپ کس کے کیریکٹر کو مضبوط سمجھتے ہیں؟ آیا اس کے کیریکٹر کو جو آپ کی رو میں بہہ جائے یا جو اپنے طریق پر قائم رہے کیونکہ جو اپنے طریق پر قائم رہے وہی بہادر ہے ۔ کہنے لگے جو اپنے طریق پر قائم رہے وہی بہادر ہے۔ میں نے کہا بس مجھے اس تعریف کی ضرورت ہے دوسری کسی بات کی میں پرواہ نہیں کرتا۔ غرض ہم اسلام کی باتوں کو دوسروں سے نہیں منوا سکتے جب تک ہم ان پر عمل کرنے میں رات دن ایک نہ کر دیں اور دعائیں کر کے ہمارے ناک نہ رگڑے جائیں اور اپنی کوششوں کو بڑھا نہ دیں۔ جب تک ہم دوسروں کی باتوں کو برداشت نہیں کر سکتے اور اپنے اندر ایک قسم کی دیوانگی پیدا نہیں کر لیتے اُس وقت تک ہم کوئی عظیم الشان تغیر پیدا نہیں کر سکتے ۔ آج تک کوئی بھی بڑا کام نہیں ہوا جس کے کرنے والے کو لوگوں نے پاگل نہ کہا ہو ۔ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا اور ایک بڑے مقصد کو لے کر دنیا کے سامنے کھڑے ہو گئے تو کیا کوئی یہ خیال بھی کر سکتا تھا کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ دنیا کے سب لوگ کہتے تھے کہ یہ کام نہیں ہو سکتا یہ تو عقل کے خلاف ہے ، بھلا اتنا بڑا تغیر دنیا میں کیسے پیدا ہو سکتا