انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 214

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۱۴ دیباچه تفسیر القرآن کا وطن جہنم کا نمونہ بننے لگا۔ مگر اس پر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دلیری سے لوگوں کو خدا کی وو تعلیم پہنچاتے رہے۔ مکہ کے گلی کوچوں میں ” خدا ایک ہے خدا ایک ہے“ کی آواز میں بلند ہوتی رہیں ۔ محبت سے، پیار سے، خیر خواہی سے ، آپ مکہ والوں کو بت پرستی کے خلاف وعظ کرتے رہے ۔ لوگ بھاگتے تھے تو آپ اُن کے پیچھے جاتے تھے ۔ لوگ منہ پھیرتے تھے تو آپ پھر بھی باتیں سنائے چلے جاتے تھے ۔ صداقت آہستہ آہستہ گھر کر رہی تھی ۔ وہ تھوڑے سے مسلمان جو ہجرت حبشہ سے بچے ہوئے مکہ میں رہ گئے تھے وہ اندر ہی اندر اپنے رشتہ داروں ، دوستوں ، ساتھیوں اور ہمسائیوں میں تبلیغ کر رہے تھے۔ بعض کے دل ایمان سے منور ہو جاتے تھے تو علی الاعلان اپنے مذہب کا اظہار کر دیتے تھے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ماریں کھانے اور تکلیفیں اُٹھانے میں شریک ہو جاتے تھے۔ مگر بہت تھے جنہوں نے روشنی کو دیکھ تو لیا تھا مگر اُس کے قبول کرنے کی توفیق نہیں ملی تھی ۔ وہ اُس دن کا انتظار کر رہے تھے جب خدا کی بادشاہت زمین پر آئے اور وہ اُس میں داخل ہوں ۔ باشندگان مدینہ کا قبول اسلام اسی عرصہ میں رسول الہ صل اللہ علیہ وسلم کوخدا تعالی کی طرف سے بار بار بر دی جارہی تھی کہ تمہارے کی طرف سے بار بار خبر دی جا رہی تھی کہ تمہارے لئے ہجرت کا وقت آ رہا ہے اور آپ پر یہ بھی کھل چکا تھا کہ آپ کی ہجرت کا مقام مقام ایک ایسا شہر ہے جس میں کنویں بھی ہیں اور ور کھجوروں کے باغ بھی پائے جاتے ہیں ۔ پہلے آپ نے یمامہ کی نسبت خیال کیا کہ شاید وہ ہجرت کا مقام ہوگا ۲۲۰ مگر جلد ہی یہ خیال آپ کے دل سے نکال دیا گیا اور آپ اس انتظار میں لگ گئے کہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کے مطابق جو شہر بھی مقدر ہے وہ اپنے آپ کو اسلام کا گہوارہ بنانے کے لئے پیش کرے گا۔ اسی دوران میں حج کا زمانہ آ گیا عرب کے چاروں طرف سے لوگ مکہ میں حج کے لئے جمع ہونے شروع ہوئے ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عادت کے مطابق جہاں کچھ آدمیوں کو کھڑا دیکھتے تھے اُن کے پاس جا کر انہیں توحید کا حید کا وعظ سنانے لگ جاتے تھے اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دیتے تھے اور ظ تھے اور ظلم اور بدکاری اور فساد اور شہ اد اور شرارت سے بچنے کی نصیحت کرتے تھے۔ بعض لوگ آپ کی بات سنتے اور حیرت کا اظہار کر کے جدا ہو جاتے ۔ بعض باتیں سن رہے ہوتے تو مکہ والے آ کر اُن کو وہاں