انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 198

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۹۸ دیبا چه تفسیر القرآن روزانہ کا شغل تھا۔ جب یہ خانہ کعبہ میں گئے تو پھر وہی ذکر ہو رہا تھا۔ اُنہوں نے پھر کھڑے ہو کر اپنے عقیدہ توحید کا اعلان کیا اور پھر اُن لوگوں نے اُن کو مارنا پیٹنا شروع کیا۔ اسی طرح تین دن ہوتا رہا۔ ۰۲ اس کے بعد یہ اپنے قبیلہ کی طرف چلے گئے ۔ خود رسول کریم کی و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مظالم و یا ولی اللہ علیہ سلم کی ذات بھی محفوظ نہ تھی ۔ طرح طرح سے آپ پ کو دکھ دیا جاتا تھا ۔ ایک دفعہ آپ عبادت کر رہے تھے کہ آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر لوگوں نے کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں ۔ اتنے میں حضرت ابوبکر وہاں آگئے اور اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے چھڑایا کہ اے لوگو! کیا تم ایک آدمی کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میرا آقا ہے۔ ۲۰۳ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کی پیٹھ پر اُونٹ کی اوجھری لا کر رکھ دی گئی اس کے بوجھ سے اُس وقت تک آپ سر نہ اٹھا سکے جب تک بعض لوگوں نے پہنچ کر اس اوجھری کو آپ کی پیٹھ سے ہٹایا نہیں ۔ ۲۰۴ ایک دفعہ آپ بازار سے گزر رہے تھے تو مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپ کے گرد ہوگئی اور رستہ بھر آپ کی گردن پر یہ کہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو! یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے میں نبی ہوں ۔ آپ کے گھر میں اردگرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے تھے۔ باورچی خانہ میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں ۔ جن میں بکروں اور اونٹوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتی تھیں ۔ جب آپ نماز پڑھتے تو آپ پر خاک دھول ڈالی جاتی حتی کہ مجبور ہو کر آپ کو چٹان میں سے نکلے ہوئے ایک پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی تھی ۔ مگر یہ مظالم بیکار نہ جارہے جار تھے ۔ شریف الطبع لوگ ان کو دیکھتے اور اسلام کی طرف اُن کے دل کھنچے چلے جاتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خانہ کعبہ کے قریب صفا پہاڑی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوج تھے کہ ابو جہل آپ کا سب سے بڑا دشمن اور مکہ کا سردار وہاں سے گزرا اور اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کیں۔ آپ اُس کی گالیاں سنتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے اُٹھ کر اپنے گھر چلے گئے۔ آپ کے خاندان کی ایک لونڈی اس واقعہ کو دیکھ رہی تھی ۔ شام کے وقت آپ کے چچا حمزہ جو