انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 191

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۹۱ دیباچه تفسیر القرآن بوجھ کہ آپ پ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں اور ہم اور بیکس اور بے مددگار لوگوں کا اُٹھاتے ہیں ۔ وہ اخلاق جو ملک سے مٹ چکے تھے وہ آپ کی ذات کے ذریعہ سے دوبارہ قائم ہو رہے ہیں ۔ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور سچی مصیبتوں پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔ کیا ایسے انسان کو خدا تعالیٰ ابتلاء میں ڈال سکتا ہے؟ پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائی ہو چکے تھے ۔ اُنہوں نے جب یہ واقعہ سنا تو بے بول اُٹھے آپ پر وہی فرشتہ نازل ہوا ہے جو موسیٰ پر نازل ہوا تھا اوے گو یا اشتناء باب ۱۸ آیت ۱۸ والی پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا ۔ جب اس بات کی خبر زید آپ کے آزاد کردہ غلام کو جو اُس وقت کوئی پچیس تیس سال کے تھے اور علی آپ کے چچا کے بیٹے کو جن کی عمر اس وقت گیارہ سال کی تھی پہنچی تو دونوں آپ پر فوراً ایمان لائے ۔ صلى الله اختیار حضرت ابوبکر کا آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ابو بکر آپ کے بچپن کے دوست جو شہر سے باہر گئے ہوئے تھے ، جب شہر میں داخل ہوئے تو معاً اُن کے کانوں میں یہ آواز میں پڑنی شروع ہوئیں کہ تمہارا دوست دیوانہ ہو گیا ہے، وہ کہتا ہے آسمان سے فرشتے اُتر کر مجھ سے باتیں کرتے ہیں ۔ ابو بکر سیدھے آپ کے دروازہ پر آئے اور دستک دی۔ جب آپ نے دی ۔ جب آپ نے دروازہ کھولا تو زہ کھولا تو اُنہوں نے آپ سے حقیقت حال کے متعلق سوال کیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچپن کے دوست کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے کچھ تشریح کرنی چاہی۔ ابوبکر نے روکا اور کہا کہ مجھے صرف اتنا جواب دیجئے کہ کیا آپ نے یہ اعلان پ نے یہ اعلان کیا ہے کہ خدا کے فرشتے آپ کے پاس آئے اور اُنہوں نے آپ سے باتیں کیں؟ آپ نے پھر تشریح کرنی چاہی مگر ابو بکر نے قسم دے کر کہا کہ صرف اس سوال کا جواب دیجئے اور کچھ نہ کہئے ۔ جب آپ نے اثبات میں جواب دیا تو ابو بکر نے کہا گواہ رہئے میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور پھر کہا يَا رَسُولَ الله ! آپ تو دلائل دے کر میرے ایمان کو کمزور کرنے لگے تھے ۔ جس نے آپ کی زندگی کو دیکھا ہو کیا اُسے آپ کی سچائی کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ ۱۹۲