انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 183

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۸۳ دیبا چه تفسیر القرآن ہو کے شہروں کے ہاتھ میں تھیں بقیہ عرب سوائے یمن اور بعض شمالی علاقوں کے بدوی زندگی بسر کرتے تھے۔ نہ اُن کے کوئی شہر تھے نہ اُن کی کوئی بستیاں تھیں ۔ صرف قبائل نے ملک کے علاقے تقسیم کر لیے تھے ۔ ان علاقوں میں وہ چکر کھا۔ ھاتے پھرتے تھے۔ جہاں کا پانی ختم ہو جاتا تھا وہاں سے چل پڑتے تھے اور جہاں پانی مل جاتا تھا وہاں ڈیرے ڈال دیتے تھے۔ بھیڑ، بکریاں، اونٹ اُن کی پونجی ہوتے تھے اُن کی صوف اور اُون سے کپڑے بناتے ۔ اُن کی کھالوں سے خیمے تیار کرتے اور جو حصہ بچ جاتا اُسے منڈیوں میں لے جا کر بیچ ڈالتے ۔ عرب کے دیگر حالات و عادات و خصائل سونے چاندی سے وہ نا آشنا تو تھے مگر سونا اور چاندی ان کے لئے ایک نہایت ہی کمیاب جنس تھی ۔ حتی کہ اُن کے عوام اور غرباء میں زیورات کوڑیوں اور خوشبو دار مصالحوں سے بنائے جاتے تھے ۔ لونگوں اور خربوزوں اور کٹڑیوں وغیرہ کے بیجوں اور اسی قسم کی اور چیزوں سے وہ ہار تیار کرتے اور اُن کی عورتیں یہ ہار پہن کر زیوروں سے مستغنی ہو جاتی تھیں۔ فسق و فجور کثرت سے تھا۔ چوری کم تھی مگر ڈا کہ بے انتہاء تھا۔ ایک دوسرے کوٹوٹ لینا وہ ایک قومی حق سمجھتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی قول کی پاسداری جتنی عربوں میں ملتی ہے اتنی اور کسی قوم میں نہیں ملتی ۔ اگر کوئی شخص کسی طاقتور آدمی یا قوم کے پاس آ کر کہہ دیتا کہ میں تمہاری پناہ میں آ گیا ہوں تو اُس شخص یا اُس قوم کے لئے ضروری ہوتا تھا کہ وہ اُس کو پناہ دے۔ اگر وہ قوم اُسے پناہ نہ دے تو سارے عرب میں وہ ذلیل ہو جاتی تھی ۔ شاعروں کو بہت بڑا اقتدار حاصل تھا وہ گویا قومی لیڈ ر سمجھے جاتے تھے۔ لیڈروں کے لئے زبان کی فصاحت اور اگر ہو سکے تو شاعر ہونا نہایت ضروری تھا۔ مہمان نوازی انتہاء درجہ تک پہنچی ہوئی تھی ۔ جنگل میں بھولا بھٹکا مسافر اگر کسی قبیلہ میں پہنچ جاتا اور کہتا کہ میں تمہارا مہمان آیا ہوں تو وہ بے دریغ بکرے اور دینے اور اُونٹ ذبح کر دیتے تھے ۔ اُن کے لئے مہمان کی شخصیت میں کوئی دلچسپی نہ تھی ، مہمان کا آجانا ہی اُن کے نزدیک قوم کی عزت اور احترام کو بڑھانے والا تھا اور قوم پر فرض ہو جاتا تھا کہ اُس کی عزت کر کے اپنی عزت کو بڑھائے ۔ عورتوں کو کوئی حقوق اُس قوم میں حاصل نہیں تھے۔ بعض قبائل میں یہ عزت کی بات سمجھی جاتی تھی کہ باپ اپنی لڑکی کو مار ڈالے ۔ مؤرخین یہ