انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 170

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۷۰ دیباچه تفسیر القرآن پھر یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ روحِ حق جب آئے گی تو وہ ساری سچائی کی راہیں بتائے گی ۔ اور یہ بتایا گیا تھا کہ اُس کی الہامی کتاب میں کوئی انسانی کلام نہیں ہو گا بلکہ شروع سے لے کر آخر تک خدائی کلام ہی اُس میں ہوگا ۔ پھر یہ بتایا گیا تھا کہ وہ آئندہ کی خبریں دے گا اور یہ بھی کہ وہ مسیح کی بزرگی بیان کرے گا اور جو عیب اُس پر لگائے گئے ہیں اُن کو دور کرے گا ۔ یہ پیشگوئی واضح طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق آتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جب تک مسیح آسمان پر نہ ہائے ، وہ تسلی دلانے والا نہیں آسکتا۔ اعمال باب ۳ آیت ۲۱ ۲۲ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے آسمان پر جانے کے اور اس کے دوبارہ نازل ہونے کے درمیان استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ کے موعود کو پیدا ہونا ہے پس تسلی دلانے والے سے مراد استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ والا موعود ہی ہے۔ پھر لکھا ہے کہ وہ موعود مسیح کے منکروں کو ملامت کرے گا۔ اس سے مراد عیسائی تو ہو نہیں سکتے ۔ کسی شخص کے متبع تو اُس کے دشمنوں کو ملامت کیا ہی کرتے ہیں ۔ یہ علامت بتا رہی ہے کہ وہ موعود کسی غیر قوم کا ہوگا اور بظاہر اُس کو مسیح کے ساتھ کوئی نسلی یا ملی تعلق نہیں ہو گا مگر اس وجہ سے کہ وہ راستباز ہوگا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا غیر قوم میں سے ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے آپ کو راستبازوں کی عزت کا نگران سمجھے گا اور اُن کی عزت کی حفاظت کرے گا ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسماعیلی نبی تھے ۔ عیسائی یا یہودی نہیں تھے ۔ مگر باوجود اس کے دیکھو کس طرح اُنہوں نے مسیح کی عزت کی حفاظت کی ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہود کی نسبت فرماتا ہے ۔ وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِن شُبِّهَ لَهُمْ، وَ إِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ، مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِّ وَ مَا قَتَلُوهُ يَقِينَا - بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ ، وَكَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا - وَإِنْ مِنْ أهْلِ الْكِتَبِ الَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَ يَوْمَ الْقِيمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا - فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَتِ أُحِلَّتْ لَهُمْ - ١٧٩ یعنی یہود کے کفر کی وجہ سے اور اُن کے حضرت مریم پر نہایت گندہ الزام لگانے کی وجہ سے اور اُن کے اس قول کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم کو قتل کر دیا ہے جو اللہ کا رسول تھا حالانکہ