انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 133

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۳۳ دیبا چه تفسیر القرآن غرض جس نقطۂ نگاہ سے بھی دیکھیں یہ ثابت ہے کہ قریش بنو اسمعیل تھے اور فاران بائبل کے مطابق وہی علاقہ ہے جس میں بنو اسمعیل رہے۔ حقوق نبی کی پیشگوئی اس فاران سے ظاہر ہونے والا جلوہ یقینا جلوہ محمدی ہی تھا جس ی کی خبر موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی اور اس کی خبر حقوق نبی نے مسیح سے ۶۲۶ برس پہلے دی اور کہا: خدا تیما سے اور وہ جو قدوس ہے کوہ فاران سے آیا۔ سلاہ ۔ اُس کی شوکت سے آسمان چھپ گیا اور زمین اُس کی حمد سے معمور ہوئی اور اُس کی جگمگاہٹ نور کی مانند سے تھی ۔ اُس کے ہاتھ سے سے کر کر نہیں نکلیں پر وہاں بھی بھی اُس کی قدرت در در پردہ تھی ۔ مری اُس کے آگے آگے چلی اور اُس کے قدموں پر آتشی و با روانہ ہوئی ۔ وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کو لرزہ دیا۔ اُس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا اور قدیم پہاڑ یزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اُس کے آگے پھنس گئیں ۔ اُس کی ۔ قدیم را ہیں یہی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بیت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے ۔ ۱۲۷ اس پیشگوئی میں بھی تیما اور کوہ فاران سے ایک قدوس کے ظاہر ہونے کا ذکر آتا ہے۔ پس موسیٰ کی پیشگوئی اور حقوق کی پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح تک انسان اپنے ارتقاء کے آخری نقطہ کو پہنچنے والا نہ تھا بلکہ حضرت مسیح کے بعد ایک اور جلوہ الہی ظاہر ہونے والا تھا جس کو صرف جمالی جلوہ نہیں ہونا تھا بلکہ اُس کے ساتھ ایک آتشی شریعت کا ہونا بھی لازمی تھا اور جیسا کہ ہم اُو پر ثابت کر چکے ہیں کہ تیما کی سرزمین اور کوہ فاران سے ظاہر ہونے والے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اُن کی آتشی شریعت قرآن کریم تھی جس نے گناہوں اور شیطانی کاروبار کو جلا کر رکھ دیا ۔ موسیٰ نے کہا جب وہ کوہ فاران سے ظاہر ہوگا تو اُس کے ساتھ دس ہزار قدوسی آئیں گے ۔ وہ کون تھا جو کوہ فاران سے ظاہر ہوا اور اُس کے ساتھ دس ہزار قدوسی تھے؟ وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے جو فاران کی پہاڑیوں پر سے ہوتے ہوئے جب مکہ پر حملہ آور ہوئے تو آپ کے ساتھ دس ہزار آدمی تھا جس پر ساری تاریخیں متفق