انوارالعلوم (جلد 20) — Page 131
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۳۱ دیبا چه تفسیر القرآن آپ کو قیدار کی نسل سے بتاتے ہیں ۔ تیسرا بیٹا او بیل تھا جو زیفس کے بیان کے مطابق او بیل نامی قوم بھی اسی عرب علاقہ میں بستی تھی ۔ چوتھا بیٹا مبسام تھا اس کا ثبوت عام جغرافیوں میں کہیں نہیں ملتا لیکن ممکن ہے کہ یہ نام بگڑ گیا ہو اور کسی اور شکل میں پایا جاتا ہو۔ پانچواں بیٹا مشماع تھا۔ عرب میں اب تک بنو مسماع پائے جاتے ہیں ۔ چھٹا بیٹا حضرت اسمعیل علیہ السلام کا دومہ تھا اور دومہ کا مقام اب تک عرب میں پایا جا تا ہے جس کا ذکر عرب جغرافیہ نویس ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں کہ دومہ اسمعیل کا بیٹا تھا جس کے نام پر یہ نام پڑا۔ چنانچہ عرب میں یہ ایک مشہور مقام ہے۔ ساتواں بیٹا مسا تھا۔ اس کے نام پر بھی ایک قوم یمن میں پائی جاتی ہے اور اس کی جائے رہائش کے کھنڈرات وہاں موجود ہیں ۔ ریورنڈ کا تری بی کاری نے اپنی کتاب میں اُن کا ذکر کیا ہے ۔ آٹھواں بیٹا حد د تھا اس کے نام پر یمن کا مشہور شہر حدیدہ بنا ہوا ہے۔ نواں بیٹا تیما تھا۔ نجد سے حجاز تک کا علاقہ تیما کہلاتا ہے اور یہاں یہ قوم بہستی ہے بلکہ خلیج فارس تک پھیل گئی ہے۔ دسواں بیٹا حضرت اسمعیل علیہ السلام کا بطور تھا۔ ان کا مقام بھی عرب میں معلوم ہوتا ہے اور جدور کے نام سے مشہور ہے جو بطور کا بگڑا ہوا ہے ۔ یا عام طور پر ج سے بدل جاتی ہے اور طا اورت ، دسے بدل جاتے ہیں لیس جدور اصل میں بطور ہی ہے۔ گیارہواں بیٹا نفیس تھا اور مسٹر فاسٹر کا بیان ہے جو زیفس اور تو رات کی سند کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم بھی بیابان عرب میں رہتی تھی ۔ بارہواں بیٹا قدمہ تھا ۔ ان کی جائے رہائش بھی یمن میں ثابت ہے۔ مشہور جغرافیہ نویس مسعودی لکھتا ہے کہ مشہور قبیلہ اصحاب الرس جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی آتا ہے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا اور وہ دو قبیلے تھے ایک کا نام قدمان تھا