انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 104

انوار العلوم جلد ۲۰ ۔ اسی کتاب کے صفحہ ۱۰۸ پر لکھا ہے:۔ ۱۰۴ دیباچه تفسیر القرآن ان کے علاوہ براہمن گرنتھوں کا بھی بہت سا حصہ ان ( ویدوں ) میں شامل ہے، جو پڑھنے سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے۔ اتھر ووید کی بھی یہی حالت ہے۔ و دوانوں (علماء) کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ دینی کتاب کی ایسی حالت افسوسناک ہے“۔ ۹۔ پھر اس کتاب کے صفحہ ۱۰۹ پر لکھا ہے:۔ وو یہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ اس وقت اتھرو وید کی صرف دوشا کھا سنہتا ( مختلف نسخے ) ملتے ہیں ۔ ایک پیلا دسنہتا اور دوسری شونک سنہتا ۔ دونوں میں پلا د زیادہ لائق تسلیم ہے ، لیکن وہ چھپی نہیں اور نہ ہی اُس پر سائن آچاریہ نے تفسیر کی ہے۔ دوسری شونک سنہتا چھپی ہوئی ملتی ہے جس کے تین ایڈیشن مختلف پریسوں میں چھپے ہوئے ملتے ہیں ۔ جن میں دومول ( صرف متن ) اور ایک سائن اچاریہ کی تفسیر کے ساتھ چھپی ہے۔ دونوں مول میں سے ایک ویدک پریس اجمیر کی اور دوسری بمبئی پریس کی چھپی ہوئی ہے۔ اس کا چھاپنے والا سیوک لال ہے ۔ تینوں میں سوکتوں ( بابوں ) اور منتروں کا اختلاف ہے۔ بعض آریہ سماجی عالموں نے اس اختلاف کو مٹانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہے ہیں۔ چنانچہ آریہ سماجی عالم پنڈت رگھونندن شر ما ساہتیہ بھوشن و یدک سمپتی صفحه ۵۷۰ و ۵۷۱ پر اس اختلاف کی اہمیت کو کمزور کرنے کے لئے لکھتے ہیں:۔ وو جہاں تک ہمیں علم ہے اب تک اس قسم کا کوئی ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے معلوم ہو کہ ویدوں میں فلاں جگہ ملاوٹ ہے جس کو آج تک کوئی نہیں جانتا تھا۔ جن مقامات میں ملاوٹ بتائی جاتی ہے وہ بہت دنوں سے ( براہمن گرنتھوں کی تصنیف کے زمانہ سے ) سب کو معلوم ہے ۔ وہ ملاوٹیں نہیں بلکہ ایک قسم کے ضمیمے ہیں جو کا تبوں اور پریس والوں کی غفلت کی وجہ سے اصل متن میں گھس کر متن جیسے ہی معلوم ہوتے ہیں ۔ بال کھلیہ سوکت رگوید میں ( یا سوکت یعنی باب ہیں جن میں