انوارالعلوم (جلد 20) — Page 95
انوار العلوم جلد ۲۰ ه لوقا باب اا آیت ۲۴ تا ۲۶ میں لکھا ہے :۔ دو ۹۵ دیباچه تفسیر القرآن جب ناپاک روح آدمی سے باہر نکلتی ہے تو سوکھی جگہوں میں آرام ڈھونڈتی ہے اور جب نہیں پاتی تو کہتی ہے کہ میں اپنے گھر کو جس سے نکلی ہوں پھر جاؤں گی اور یہ کہ اسے جھاڑا ہوا اور آراستہ پاتی ہے تب جا کے اور سات روحیں جو اُس سے بدتر ہیں اپنے ساتھ لاتی ہے اور وے اس میں داخل ہو کے وہاں بستی ہیں اور اُس آدمی کا پچھلا حال پہلے سے بُرا ہوتا ہے۔ یہ کیسے وہمی خیالات ہیں ۔ اول یہ بیان کرنا کہ نا پاک روح آدمی میں سے نکل کر سوکھی ۔ یہ بیان کرنا نا ۔ جگہ لہ میں آرام ڈھونڈتی پھرتی ہے اور اور پھر سات اور گندی روحیں لے کر واپس آجاتی جاتی ہے ۔ کیا کوئی عقلمند انسان ان باتوں کو تسلیم کر سکتا ہے؟ اور کیا ان باتوں کو حضرت مسیح اور خدا کے کلام کی طرف منسوب کرنا جائز ہو سکتا ہے؟ جھوٹ بہت ہی بری چیز ہے اور وہم بھی ایک نہایت گندی مرض ہے ۔ لیکن جھوٹ اور وہم کو خدا تعالیٰ کے نبیوں اور خدا تعالیٰ کے کلام کی طرف منسوب کرنا تو اور بھی ظالمانہ فعل ہے اور انجیل کے نادان دوستوں نے اس جرم کا ارتکاب کر کے اُسے دنیا کی ہدایت دینے والی کتابوں سے ہمیشہ کے لئے نکال دیا ہے ۔ لے انجیل کی خلاف اخلاق باتیں ا مرقس باب ۱۱ آیت ۱۲ تا ۱۴ میں لکھا ہے : وو صبح کو جب وہ بیت عنیاہ سے باہر آئے تو اُس کو بھوک لگی اور دور سے انجیر کا ایک درخت پتوں سے لدا ہوا دیکھ کے وہ گیا کہ شاید اس میں کچھ پاوے۔ جب وہ اُس پاس آیا تو پتوں کے سوا کچھ نہ پایا کیونکہ انجیر کا موسم نہ تھا۔ تب یسوع نے اُس سے خطاب کر کے کہا کہ کوئی تجھ سے پھل نہ کھاوے“۔ اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ:۔ (الف) مسیح با وجود یکہ ایک ایسے ملک کے رہنے والے تھے جہاں انجیر کثرت سے ہوتی ہے مگر وہ ایسے نا واقف تھے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ انجیر کے درخت کو کب