انوارالعلوم (جلد 1) — Page 69
انوار العلوم جلد 1 ۶۹ محبت الهی مٹے گا گو پنڈت لیکھرام کا خون آریوں میں ایک جوش پیدا کر گیا لیکن ساتھ ہی ثابت کر گیا کہ اسلام خدا کی طرف سے ہے اور آریہ سماج اور دوسرے ویدک مذاہب محض باطل فروشی کر رہے ہیں اور یہ بھی ثابت کر گیا کہ خدا کا کلام اب بھی اپنے نیک بندوں پر ناز اپنے نیک بندوں پر نازل ہوتا ہے اور اس کی ربوبیت اب بھی اسلام میں عام ہے۔ اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ یہ عقیدہ جو اور مذاہب کا ہے کہ سوائے ہماری قوم کے چند افراد کے اور کسی کو الہام نہیں ہوا اور وہ بھی اب آئندہ کے لئے بند ہے بالکل غلط ہے اور اسلام میں اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور اس کا ثبوت آر اور اس کا ثبوت آج کل کے زمانہ میں بھی موجود ہے جیسہ جیسا کہ لیکھرام کی اور آتھم کی موت اور یہی ایک خوبی اسلام کی سچائی کی کافی دلیل ہے اور آئندہ اور بحث کی ضرورت نہیں مگر میں چاہتا ہوں کہ حتی الوسع وہ اعتراضات جو غیر قوموں پر پڑتے ہیں (وہ جو کہ میں پیچھے ذکر کر آیا ہوں) ان سے اسلام کو پاک ثابت کر کے دکھلاؤں اور یہ بتلاؤں کہ اسلام تمام خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ اب میں تناسخ کے مسئلہ کو لیتا ہوں جس کو میں ثابت کر آیا ہوں کہ ایک لغو مسئلہ ہے اور انصاف کے برخلاف ہے اس مسئلہ کی اسلام نے سخت تردید کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ تعلیم خدا کی طرف سے نہیں مگر اس کے ساتھ ہی اسلام ہم کو ایک اور تناسخ بتاتا ہے جو کہ ایسا خوبصورت ہے کہ نہ تو وہ انسانی فطرت کے برخلاف ہے اور نہ ظلم کے لفظ کا اس پر اطلاق ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اسلام نے انسان کے لئے تین جو نہیں بھگتنی مقرر کی ہیں یعنی انسانی حالت کے تین درجہ مقرر کئے ہیں ایک تو نفس امارہ پھر نفس لوامہ اور تیسرے نفس مطمئنہ یہ تین حالتیں ہیں جن میں سے کہ انسان کو گزرنا پڑتا ہے نفس امارہ تو وہ انسانی حالت ہے جبکہ انسان گناہ کرتا ہے اور برائیوں میں گھرا ہوا ہوتا ہے اور نفس لوامہ وہ حالت ہے جبکہ انسان اس درجہ تک ترقی کر جاتا ہے کہ جب ایک گناہ کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کے پھر اس گناہ سے پچھتاتا بھی ہے اور نفس مطمئنہ وہ انسانی حالت ہے جبکہ ایک انسان گناہوں کے دائرہ سے نکل کر حالت اطمینان میں ہو جاتا ہے اور اس کو شیطانی حملوں اور برے خیالات سے نجات مل جاتی ہے یہ تین حالتیں ہیں جو کہ انسان پر وارد ہوتی ہیں میرا خیال ہے کہ شاید اس مسئلہ سے ملتا جلتا کوئی مسئلہ ہو گا جس سے بگڑ کر یہ تناسخ کا مسئلہ نکل آیا اگر چہ ایسا لطیف اور پر معنی ارشاد سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں نہیں پایا جاتا مگر شاید کوئی اس عقیدہ سے ملتا جلتا عقیدہ ان مذہبوں میں بھی ہو۔ میں یہ نہیں مان سکتا کہ بالکل یہ عقیدہ ان لوگوں میں ہو گا کیونکہ