انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 59

انوار العلوم جلد 1 ۵۹ محبت الهی کے ہاں اولاد نہ ہوتی ہو دو یا تین سال تک انتظار کر کے اپنی بیوی کو اولاد کی خاطر ایک اور مرد سے ہم بستر کرواتا ہے اور ایسے مرد سے جو اولاد ہوتی ہے وہ بانٹ لی جاتی ہے اور اس طریقہ سے گیارہ لڑکوں تک حاصل کئے جاسکتے ہیں اور یہ کام ایک ہی ۔ ہی مرد سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ پانچ چھ " چھ آدمیوں کے ذریعہ یہ تعداد پوری کروانی چاہئے اور پھر اس عرصہ میں جبکہ ایک مرد دو سرے کی بیوی سے نیوگ کر رہا ہو اس بیوی والے شخص کو چاہئے کہ عمدہ عمدہ غذاؤں سے نیوگ کرنے والے شخص کو تازہ کرے اور ہر طرح کی آسائش کے سامان اس کے لئے مہیا کرے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اس عقیدہ پر اگر عمل کیا جائے تو دنیا میں کیسی خوفناک تباہی آنے کا اندیشہ ہے بلکہ یقین ہے کیونکہ اول تو عورتیں خلقی طور پر با حیا اور شرمیلی بنائی گئی ہیں جب ان کو ایسے کام کے لئے کہا جائے گا تو ممکنات سے بعید نہیں کہ ان میں سے بعض بلکہ اکثر خود کشی کر کے مرجائیں جیسا کہ دنیا میں اس قسم کے موقعوں پر ہمیشہ ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں اور پھر اگر وہ مان بھی لیں تو آئے دن کے طعن و دوسرا تشنیع سے وہ ایک مہینہ بھی زندہ نہیں رہ سکیں گی جب ایک عورت کا خاوند مر جاتا ہے اور وہ خاوند کرتی ہے تو اس وقت بھی عورتیں اس کو طعنے دیتی ہیں تو وہ جب ایک مرد کے زندہ ہوتے ہیں اور کسی مرد سے صحبت کرے گی تو کیا کچھ اس پر اعتراض نہ آئے گاوہ خود اپنے دل میں کیسی شرمندہ ہوگی اور اپنے رشتہ داروں عزیزوں میں کس منہ سے بیٹھے گی در حقیقت آریہ سماج نے زناکاری کا دروازہ کھول دیا ہے۔ کنچنیاں جو کہ بازاروں میں بیٹھ کر اپنے پیٹ پالنے کے لئے زنا کرواتی ہیں ان بیچاریوں کا پھر کیا تصور رہ گیا کہ ان کو برا کہا جائے اگر نیوگ در حقیقت جائز ہے تو ان کا کام کچھ اچھا ہی ہے کیونکہ وہ روزی کمانے کے واسطے ایسا کرتی ہیں اور اپنی عصمت کے بدلے کچھ پیسے لیتی ہیں اور اس طرح اپنی آخری زندگی کو تباہ کر کے اس دنیا کی زندگی کے لئے کچھ سامان مہیا کرتی ہیں۔ مگر نیوگ کرانے والی عورت تو نہ صرف اپنی پچھلی یعنی بعد از موت کی زندگی کو تباہ کرتی ہے ۔ بلکہ اس دنیا کا سامان بھی ضائع کرتی ہے کیونکہ حکم ہے کہ نیوگی مرد کو خوب کھلاؤ پلاؤ اور اس طرح اسے نیوگ کیلئے تازہ کرد۔ اب آریہ صاحبان خود مقابلہ کرلیں کہ ایک عورت تو دین ضائع کر کے دنیا کماتی ہے اور دوسری دین و دنیا ضائع کر کے سوائے ندامت اور رسوائی کے کچھ بھی حاصل نہیں کرتی ان دونوں میں سے کون سی مقابلہ دوسری کے فائدہ میں ہے۔ پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ مرد کی غیرت کس طرح قبول کرے گی کہ اپنے ہوتے ہوئے وہ اپنی بیوی کو دوسرے مرد سے ہم بستر کروائے اور پھر ساتھ ہی اس کی خاطر بھی کرے۔ اس زمانہ میں کئی ایسے واقعات پیش آئے ہیں کہ