انوارالعلوم (جلد 1) — Page 53
انوار العلوم جلد 1 ۵۳ محبت امی F ۴ کہ وہ ایسے ہی ہیں مگر اس بات کا معلوم نہیں کیا جواب دیں گے کہ کرشن اور رام چندر جی بیچاروں نے کیا قصور کیا تھا کہ یہ لگے ان کو بھی برا بھلا کہنے اور اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو گالیاں دینے سے کام ہے خواہ کوئی سامنے ہو و - - ج جب دیکھا کہ فلاں بزرگ کی بات ہمارے خیال کے برخلاف ہے تو پیٹ بھر کے گالیاں سنا دیں اور دوسرے لوگ تو خیر مخالف ہی تھے اپنے باپ دادوں کو بھی خالی نہیں چھوڑا جن کی بہت سی باتوں پر یہ اب بھی عمل کرتے ہیں اور ان کی بیویاں تو تما ان کی بیویاں تو تمام کمال انہیں رسومات کی پابند ہیں جو پرانے زمانے سے چلی آتی ہیں۔ پھر جبکہ گھر میں زور نہیں چلتا تو باہر دنیا پر کس طرح چل سکتا ہے ۔ یہی باتیں تھیں کہ جن کی وجہ سے ہم نے خیال کیا کہ ایسے لوگوں سے کلام کرنا اور ان کی نسبت کچھ لکھنا گویا ان کو عزت دیتا ہے اور اپنے بزرگوں کی نسبت گالیاں سننا ہے مگر اس لئے کچھ لکھنا ضروری سمجھا کہ ان کا فتنہ روز بروز بڑھتا ہی جاتا ہے اور جیسا کہ چراغ بجھنے کے وقت ایک تیز روشنی دیگر گل ہو جاتا ہے۔ یا ایک مرنے والا انسان مرتے وقت با وجود سخت بیمار ہونے کے کچھ دیر کے لئے بالکل تندرست ہو جاتا ہے اور اس میں غیر معمولی قوت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور نادان آدمی سمجھتے ہیں کہ اب یہ اچھا ہو گیا حالانکہ حکیم کی نظر میں یہ اس کی موت کی نشانی ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ لوگ جبکہ ویدک مذہب کی زیست کے دن ختم ہو گئے تو آریہ مت کی شکل میں ایک دفعہ چمکے ہیں ۔ یا ایک انسان کو مرتے وقت جو افاقہ ہو جاتا ہے اس کی طرح ہنوں میں بھی افاقہ الموت کی طرح یہ لوگ پیدا ہو گئے ۔ اور نادان لوگ ان کی تیزی اور طراری سے خائف ہو گئے ہیں کہ کیا در حقیقت ان میں کوئی روحانیت ہے جس کی وجہ سے ان میں اس قدر جوش و خروش ہے۔ مگر یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ یا مرتا ہوا انسان ہے کہ جو جلد ہی اس دنیا سے نابود ہو جائے گا ان کی حالت ظاہر کرتی ہے کہ جلدی ہی کچھ تو ان میں سے دہریہ ہو جائیں گے اور کچھ مسلمان ۔ انہوں نے اپنے پرانے مذہب کو چھوڑ کر گویا کہ ایک قدم ترقی کی طرف بڑھایا ہے مگر اس قدم بڑھانے میں کچھ ایسی غلطی کی ہے اور وہ ٹھو کر کھائی ہے کہ کہیں کے کہیں جا پڑے ہیں۔ اس فرقہ نے ہنوں میں ایک بڑی اصلاح کی ہے کہ بت پرستی کو ترک کر دیا ہے مگر ساتھ ہی ایک ایسی خوفناک غلطی کر بیٹھے ہیں کہ اس پر غور کرنے سے بدن کانپ اٹھتا ہے یعنی ان کا عقیدہ ہے کہ روح اور مادہ ایسے ہی ازلی ہیں جیسے کہ خدا اور یہ مخلوقات نہیں بلکہ خود بخود ہیں۔ اس پر بڑا اعترا ا پر بڑا اعتراض ہوتا ہے کہ پھر خدا خدا کیوں ہے۔ روح اور مادہ تو پہلے سے موجود ہیں تو پھر خدا کی ضرورت کیا رہی اور خدا سے ہمارے تعلقات کیونکر رہ سکتے ہیں وہ محبت کا تعلق جو کہ انسان کو خدا سے ہے وہ تو اسی