انوارالعلوم (جلد 1) — Page viii
کے سلسلہ میں بڑی جد و جہد کرنی پڑی کیونکہ 52 سالہ دور خلافت اور اس سے پہلے کی کتب کو بھی جمع اور ترتیب دینا مقصود تھا۔ پھر ترتیب زمانی کے سلسلہ میں بھی کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بہر حال ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد 1906ء سے لیکر 1961ء تک جو کتب شائع ہوئیں وہ سب اس میں شامل ہیں۔ کچھ مواد سلسلہ کے اخبارات در سائل سے بھی لیا گیا ہے۔ حضور انور کی خدمت میں جب تفصیلی سکیم پیش کی گئی تو حضور نے فرمایا ۔ منظور ہے بہت مبارک تجویز ہے" حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سلسلہ کتب کے لئے انوار العلوم " نام پسند فرمایا ہے۔ ہماری تیارہ کردہ فہرست کے مطابق حضور کی تصنیفات / تقاریر اور مضامین کی تعداد 250 کے لگ بھگ ہے۔ جو 20 جلدوں میں شائع کرنے کا پروگرام ہے ( اس سلسلہ میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ان میں سے اکثر کتب حضور کی تقاریر پر مشتمل ہیں جو بعد میں قلمبند ہو کر شائع ہوئیں۔ کیونکہ حضور لکھی ہوئی تقریر نہیں پڑھتے تھے بلکہ بہت مختصر نوٹس کی مدد سے نہایت پُر مغز ایمان افروز اور روح پرور زبانی تقاریر ارشاد فرمایا کرتے تھے ) ان 20 جلدوں کی جو سال دار ترتیب رکھی گئی ہے اس میں Critaria یہ مقرر کیا گیا ہے کہ حضرت مصلح موعود کی تصنیفات کے علاوہ جو مضامین یا تقاریر کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہیں ان کو اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔ سب سے پہلی جلد میں خلافت سے قبل کی کتب شامل کی گئی ہیں ( 1906ء تا مارچ 1914ء) ان کی تعداد 20 اور کل صفحات 700 بنتے ہیں۔ باقی جلد میں بھی کم و بیش 600 تا 650 صفحات کی رکھی گئی ہیں جن میں تعارف کتب اور انڈیکس بھی شامل ہو گا۔ کچھ حصہ حضور کے ارشادات کا خدام الاحمدیہ انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ سے متعلق ہے اس کا بہت تھوڑا حصہ علیحدہ پمفلٹ یا کتاب کی شکل میں شائع ہوا ہے۔ اس کو تو لے لیا گیا ہے باقی تحریرات اور خطابات کو چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ ذیلی تنظیمیں اپنے طور پر ان کی اشاعت کا انتظام کر رہی ہیں۔ خطبات جمعہ چونکہ ہم علیحدہ شائع کر رہے ہیں اس لئے وہ بھی ان میں شامل نہیں ہیں۔ درس القرآن ، مجالس عرفان وغیرہ بھی علیحدہ جمع کر کے شائع کرنے کا پروگرام ہے اس لئے وہ مواد بھی اس میں شامل نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف رسائل و اخبارات میں حضور کی طرف سے جو اعلانات پیغامات اور