انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 48

انوار العلوم جلد ) ۴۸ محبت الهی کرتا ہے اسی طرح کا اس کو بدلہ مل کر وہ دوسری دفعہ پھر پیدا ہوتا ہے اور اگر کسی نے کوئی برے کام کئے ہوتے ہیں تو بیل گدھا کتا وغیرہ بہت سی مختلف شکلوں میں اس دنیا میں دوبارہ لوٹ آتا ہے اور ایک مدت کے بعد جبکہ اس کے گناہوں کی پوری سزا مل چکتی ہے تو پھر اس کو بہشت میں داخل کیا جاتا ہے۔ اب دیکھنے کی یہ بات ہے کہ جب انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اس وقت گویا کہ وہ کچھ اچھے کام کر کے اس کے بدلہ میں یہ انعام پاتا ہے اور اگر پھر وہ اچھے ہی کام کرے تو پھر اس کو دوبارہ دنیا میں انسان کی شکل ہی میں آنا چاہئے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک زمانہ میں ہندوؤں میں ایک بہت بڑا عالم و فاضل پیدا ہوتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد ایک زمانہ گزر جاتا ہے مگر کوئی اس کا جوڑ پیدا نہیں ہوتا۔ اگر تناسخ کا مسئلہ در حقیقت صحیح تھا تو ضروری تھا کہ ایک بڑا آدمی جو کہ اپنی ساری عمر میں ہمیشہ اچھے کام ہی کرتا رہا پھر ایک عالی شان گھرانے میں پیدا ہو اور دنیا میں اپنے ظہور سے برکتیں پھیلائے مگر مشاہدہ اس کے بر خلاف ظاہر کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ ہی غلط ہے ۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ کوئی انسان برے اعمال کرنے کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا تو یہ ماننا پڑے گا کہ سناتن دھرم نجات کے بالکل بر خلاف ہے اور اس کے پیروان بے فائدہ نجات کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ متناسخ کی وجہ سے نجات کا دروازہ بالکل بند ہے اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ تناسخ سے نجات پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو کم سے کم یہ مشکل تو حل نہیں ہوتی کہ کرشن علیہ السلام کی پیشگوئی ہے کہ آخر زمانہ میں جب بدی بڑھ جا جائے گی گائے بکری کے برابر دودھ دے گی دس برس کی لڑکی بچہ جنے گی تو - اس وقت کلنک او تار جنم لیں گے اور وہ کل جگ کا زمانہ ہو گا۔ پس اس صورت سے لازمی تھا کہ بجائے اس کے کہ دنیا میں انسانوں کی دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی روز بروز آبادی گھٹتی جاتی کیونکہ کل جگ کے زمانہ میں بدیوں کی کثرت کی وجہ سے انسان بہت کم پیدا ہوتے اور گھوڑے کتے خچر بند را در ریچھ کی کوئی حد ہی نہ ہوتی۔ بلکہ بجائے اس کے کہ دنیا میں اس قدر ترقیاں ہوتیں چاہئے تھا کہ انسان وحشیوں کی طرح ہو جاتے ۔ تمام ترقیاں رک جاتیں اور درندوں اور انسانوں میں کوئی فرق نہ رہتا۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوؤں میں اس وقت کوئی سلطنت نہیں ہے حالانکہ بعض نیکیوں کا بدلہ ہوتا تھا کہ ایک انسان با خدا راجہ یا مہاراجہ ہو جائے جیسا کہ بکرماجیت پر تھوی راج وغیرہ پہلے زمانہ میں ہوئے اور یہ کہ اس کے ماتحت ماتحت ایک بڑا ملک ہو جس پر کہ وہ خود مختارانہ حکمراں ہو ۔ مگر آج چونکہ ہندوؤں میں ایسا کوئی نہیں اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نیکیاں اور وہ خوبیاں جن کا بدلہ انسان کو اس صورت میں ملتا ہے وہ اب رہی ہی نہیں اور دنیا سے ایسے عمدہ کام ہی اٹھ گئے