انوارالعلوم (جلد 1) — Page 44
انوار العلوم جلد ! 1 ۴۴ محبت الهی کہ چند روزہ ہے ہر طرح کے آسائش کے سامان ان کے لئے مہیا کئے گئے مگر اس دائمی زندگی کے لئے اور اس دائمی عیش کیلئے جو کہ مرنے کے بعد انسان کو مل سکتا ہے کوئی طریقہ یا قاعدہ مقرر نہ کیا گیا اور انسان کو وحشی جانور کی طرح زمین پر چھوڑ دیا کہ زمین میں پھرے اور سوائے کھانے پینے کے اور کسی کام سے سرو کار نہ رکھے ۔ مگر چونکہ ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ پر میشور ظالم نہیں اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ ان لوگوں کے لئے بھی ہدایت کی کوئی راہ مقرر کی گئی تھی پس ہم یہی ثابت کرنا چاہتے تھے اور جب یہ ثابت ہوا تو معلوم ہوا کہ دید سے پہلے بھی کوئی کتاب تھی جس سے دنیا کی رہنمائی کی جاتی تھی۔ پس ہندوؤں کا یہ عقیدہ کہ پر میشور ایک ہی دفعہ بولا اور اس کی طرف سے ایک ہی کتاب ہے یعنی دید خود ان کے اپنے عقیدہ کی رو سے باطل ٹھرتا ہے۔ پھر اگر یہ کہا جائے کہ پر میشور پہلے تو بولتا تھا لیکن دید چونکہ مکمل کتاب تھی اس نے اسے پھر بولنا اور کسی کو اپنے کلام سے مستفیض کرنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ خدا کوئی لغو بات تو کرتا ہی نہیں پس جب ضرورت نہ رہی تو اس نے کلام کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا ۔ مگر یہ بات بھی کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتی کیونکہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ دید کی اصلاح کی ضرورت ہوئی اور اس لئے منو کا دھرم شاستر بنایا گیا۔ اور بغرض محال ضرورت بھی نہ پڑی سی تو بھی تو ضروری نہیں کہ خدا تعالی کلام نہ کرے اور چپ ہو کر بیٹھ جائے جب ایک وقت بولتا تھا تو اب کیوں میں بولتا۔ مانا کہ تعلیم پوری ہو گئی مگر ایک عاشق راہ دن اسی فکر میں رہتا ہے کہ کسی طرح اپنے معشوق یا محبوب سے کلام کرے اس کا بھی تو کچھ حق ہے کہ وہ اس تڑپ کو دور کرنے کا جو کہ اس کے دل میں بار بار پیدا ہوتی ہے کوئی ذریعہ حاصل کرے پس اگر کچھ نہیں تو اس بے قرار کو ہی جو کہ پر میشور کے بدلہ اپنا مال اسباب جان اور عزت و آبرو تک قربان کر کے جنگل به جنگل پھر رہا ہے اپنی آواز سنایا کرے تا کہ اس کے دل کو تسلی ہو اور وہ اس محبت میں جو کہ خالص اس کے ساتھ رکھتا ہے اور بھی ترقی کرے اور نہ صرف یہی بلکہ دوسرے لوگوں کی تسلی کا بھی باعث ہو کیونکہ جب لوگ دیکھیں گے کہ خدا تعالیٰ ایک آدمی سے کلام کرتا ہے تو ان کے دل میں اس کی ہستی کا کامل یقین ہو جائے گا اور وہ خود بھی کوشش کریں گے کہ ہم بھی اس آدمی کی طرح خدا تعالیٰ سے محبت کر کے یہ رتبہ حاصل کریں پس یہ بات نہ صرف ایک بیقرار محبت کی تسلی کا باعث ہو گی بلکہ لوگوں کی ترقی ایمان اور خدا تعالٰی سے محبت کرنے کی خواہش کا ذریعہ بنے گی جس سے کہ خدا تعالیٰ کی وہ غرض بھی پوری ہو جائے گی جو کہ اس نے انسان کے پیدا کرنے میں رکھی تھی پس تعلیم کا پورا ہونا اس بات پر دلالت