انوارالعلوم (جلد 1) — Page 42
انوار العلوم جلد 1 ۲ محبت الهی ضروری اور یقینی ہو گا کہ وہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور اس کا کلام کبھی جھوٹے اور مفتری انسان یا گروہ کے شامل حال نہیں ہوتا اور اس بات کی بحث ہم اگلے حصے میں کریں گے کہ آیا الهام ضروری ہے یا نہیں اور اس وقت صرف مجملاً بیان کرتے ہیں کہ الهام ایک بڑی شہادت ہے کسی مذہب کے سچا ہونے یا نہ ہونے پر مگر یہودی اور عیسائی اس سے محروم ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا دینی جسم اب الهام یا دوسرے الفاظ میں سچائی کی روح سے خالی ہے اور اس قابل نہیں کہ ہماری تسلی کر سکے کیونکہ جب ہم محبت کریں گے تو فطرتا ہمارے دل میں محبوب سے کلام کرنے کا شوق بھی پیدا ہو گا۔ اور اگر وہاں سے کوئی جواب ہی نہ ملے تو کیا کیا بد ظنیاں ہمارے دل میں پیدا ہوں گی۔ پس ہماری تسلی کے لئے یہ موجودہ یہودی مذہب تو کافی نہیں ہو سکتا۔ اب ہم ہندو مذہب پر نظر ڈالتے ہیں یا یہ کہو کہ ہم سناتن دھرم کی طرف توجہ کرتے ہیں ۔ مگر ہم اول یہ کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس مذہب کے پیروؤں کے نزدیک یہ مذہب اس وقت سے چلا آتا ہے جبکہ یہ موجودہ دنیا پیدا ہوئی اور ان کے خیال کے بموجب پر میشور نے اپنا کلام چار رشیوں پر اتارا اور ان کو الہام سے مستفیض کیا مگر اس کے بعد الہام کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا اور راب خواہ کوئی کتنا سر پٹکے لیکن ممکن ہی نہیں کہ وہ دروازہ کھولا جائے۔ پھر ان کا یہ عقیدہ ہے کہ بتوں کی پرستش کے سوا پر میشور کا ملنا محال ہے اور پھر یہ کہ تناسخ ہمیشہ انسان کے ساتھ ساتھ لگا رہتا ہے اور ایک انسان کبھی گائے کی شکل میں اور ور کبھی کتے کی شکل میں اس دنیا میں بار بار آتا ہے ۔ اس بار آتا ہے ۔ اب ہم جدا جدا مسائل پر نظر ڈالتے ہیں اول یہ کہ سب سے قدیم دید ہے اس کی تعلیم مکمل ہے اور پھر الہام کی ضرورت نہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وید کا قدیم ماننا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ سب سے پرانے وید کی عمر جو ہے تو وہ تین سوا تین ہزار سے زیادہ نہیں کیونکہ وید کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کا لکھا ہوا ہے جبکہ آریہ ہندوؤں کو ہندوستان کے اصلی باشندوں سے مقابلہ اور جنگیں پیش آئی ہیں کیونکہ اس میں دعائیں ہیں کہ یا الہی ہم کو فتح دے اور ہمارے دشمنوں کو ذلیل کر اور ہماری گائیں زیادہ دودھ دیں پس یہ کوئی بڑا عرصہ نہیں ہے بلکہ اگر چار ہزار سال بھی مان لیں تب بھی حضرت نوح کے بعد کا زمانہ ہی ہے اور اس طرح ہندوؤں کا یہ دعوی کہ ہم اور ہماری کتابیں قدیم سے چلے آتے ہیں بالکل غلط ٹھہرتا ہے ۔ ہم مثال کے طور پر یہاں چند منتر نقل کرتے ہیں جن سے ظاہر ہو جائے گا کہ در حقیقت وید میں کیا ہے اور کس زمانہ کا ہے۔ رگ وید انوواک سوکت میں اس طرح