انوارالعلوم (جلد 1) — Page 655
انوار العلوم جلد ا ۶۵۵ تقریر ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ ہم تیرے قریب ہوں۔ یہ بڑی ذمہ داری اور بوجھ ہے جس کے اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں جب تک اس کی نصرت نہ آوے ہم نہیں اٹھا سکتے ۔ پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ بار بار اور کثرت ا بات پر ہاتھ مارنا ہے اگر غیب سے پڑھو۔ پڑھو۔ ہم نہیں جانتے کل کیا ہو گا۔ پرسوں کیا ہو گا ۔ ایک غیب کی بات پر ہاتھ مارنا ۔ دان خدا مدد نہ کرے تو اندیشہ ہے ہلاکت میں پڑ جاویں اس لئے دعائیں کرو استغفار کرو۔ استخارے کرو ۔ درود پڑھو۔ تڑپ تڑپ کر دعائیں کرو کہ موٹی تو ہی اپنے فضل سے اس امتحان میں کامیاب کر تیرا مسیح آیا۔ بہتوں نے انکار کیا اور وہ ٹھو کر کھا کر اس پتھر پر گرے اور ہلاک ہوئے۔ مگر تو نے اپنے رحم سے ہمیں ہدایت دی۔ پھر اسکی وفات پر پھر ایک موقعہ امتحان کا آیا۔ اور تو نے ہماری ہدایت فرمائی۔ اب پھر ایک اور اور موقعہ آیا ہے۔ اب بھی فضل کیجو اور اور آپ ہماری رہنمائی کرو۔ ہمارے تمام کاموں میں برکت نازل کیجیو۔ دشمنوں کو خوش ہونے کا موقعہ نہ دیجو اپنی خدمت کے لئے پاک وجود چن لے۔ اللهم آمین سب لوگ اپنے دلوں میں چلتے پھرتے دعائیں کریں آج رات کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مشکلات حل کر دیتا ہے۔ خدا تعالیٰ پر توکل کرو۔ اس کے وعدے بچے ہیں۔ اس نے جو اپنے مسیح موعود سے وعدے کئے ۔ وہ پورے ہوئے اور ہونگے ۔ ایک انسان جھوٹا وعدہ کر لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالی کے وعدے بچے ہوتے ہیں وہ صادق الوعد ہے۔ خدا تعالی کے وعدوں کی صداقت پر ایمان لاؤ۔ اور اسی پر توکل اور بھروسہ کرو۔ اب میں بھی دعا کرتا ہوں۔ تم بھی میرے ساتھ ملکر دعا کرو۔ اور اس کے بعد بھی دعا ئیں کرو۔ اس تقریر کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ۔ خدا جانے دعا میں کیا سوز اور ابتہال تھا کہ اس نے مسجد نور کو تھوڑی دیر کے لئے مسجد بکاء بنا دیا ۔ کوئی آنکھ نہ تھی جو روتی نہ تھی۔ اور دلوں میں ایک سوزش تھی۔ بڑی لمبی دعا کے بعد ایک ایسی تجلی معلوم ہوتی تھی۔ کہ بجلی کی طرح دلوں پر سکینت کا نزول ہوا۔ دعا کے بعد حضور بیٹھ گئے۔ لوگوں میں ایک قبولیت اور جوش تھا پھر فرمایا کہدو کہ جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ کل روزہ رک ہیں وہ کل روزہ رکھیں۔ اس حکم اور ارشاد کے بعد آپ مسجد نور سے اٹھے اور نواب صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے ۔) ( الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۱۴ ء )