انوارالعلوم (جلد 1) — Page 621
انوار العلوم جلد ا ۶۲۱ سيرة النبي برابر دس بڑھ کر سلام کرے بلکہ آپ کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ آپ ہی پہلے سلام کہیں۔ اس کے متعلق میں اس جگہ ایک ایسے شخص کی گواہی پیش کرتا ہوں جس کو آپ کی مدینہ کی زندگی میں برابر سال آپ کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔ میری مراد حضرت انس سے ہے جن کو رسول کریم نے مدینہ تشریف لانے پر ملازم رکھا تھا اور جو آپ کی وفات تک برابر آ۔ آپ کی خدمت میں رہے۔ ان کی نسبت امام بخاری روایت کرتے ہیں: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ ا اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى صِبْيَا صِبْيَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ۚ وَقَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُه ( بخاری کتاب الاستئذان باب التسليم على البيان ) یعنی حضرت انس ایک دفعہ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں لڑ جہاں لڑکے کھیل رہے تھے تو آپ نے ان کو سلام کہا اور پھر فرمایا کہ آنحضرت ا اسی طرح کیا کرتے تھے یعنی آپ بھی جب لڑکوں کے پاس سے گزرتے تھے ۔ تو ان کو سلام کہا کرتے تھے ان واقعات پر سرسری نظر ڈالنے والے انسان کی نظر میں شاید یہ ایک معمولی سی بات ہو لیکن جو شخص کہ ہر ایک بات پر غور کرنے کا عادی ہو وہ اس شہادت سے رسول کریم ال کی منکسرانہ طبیعت کے کمال کو معلوم کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔ امراء کے لئے اپنے سے چھوٹے آدمی کو پہلے سلام کہنا ایک نہایت سخت مجاہدہ ہے اور ممکن ہے کہ کبھی کبھار کوئی امیر ایسا کر بھی دے لیکن ہمیشہ اس پر قائم رہنا ایک ایسی بات ہے جس کا ثبوت کسی دنیاوی بادشاہ کی زندگی سے نہیں مل سکتا۔ پھر بچوں کو سلام میں ابتداء کرنا تو ایک ایسی بات ہے جس کی بادشاہ تو الگ رہے امراء سے بھی امید کرنا بالکل محال ہے اور امراء کو بھی جانے دو۔ کتنے بالغ و جوان انسان ہیں جو باوجو د دنیاوی لحاظ سے معمولی حیثیت رکھنے کے بچوں کو سلام میں ابتداء کرنے کے عادی ہیں اور جب گلیوں میں بچوں کو کھڑا پاتے ہیں تو آگے بڑھ کر ان کو سلام کرتے ہیں۔ شاید ایسا آدمی جو اس پر تعہد سے قائم ہو اور ہمیشہ اس پر عمل کرتا ہو ایک بھی نہ ملے گا لیکن رسول کریم اس کی نسبت حضرت انس جیسے واقف کار صحابی جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے فرماتے ہیں کہ آپ جب بچوں کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کو سلام کہتے تھے ۔ اس شہادت میں آپ نے کئی باتوں پر روشنی ڈالی ہے اول یہ کہ آنحضرت الله انکسار کے اس اعلیٰ درجہ پر قدم زن تھے کہ بچوں کو سلام کہنے سے بھی آپ کو عار نہ تھا۔ دوم یہ کہ آپ ان کو سلام کہنے میں ابتدا میں ابتداء کرتے تھے۔ سوم یہ کہ ایک یا دو دفعہ کی بات نہیں آپ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ اب اس شہادت سے ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص بچوں کے ساتھ