انوارالعلوم (جلد 1) — Page 598
انوار العلوم جلدا ۵۹۸ سيرة النبي زبردست جو کسی زبر دست کے پنجہ ستم میں گرفتار ہو اس نے قابل عناب گفتگو سن کر یا ز بر دست سلوک دیکھ کر اظہار نار اهنگی کرنا ہی کیا ہے ؟ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ طریق تو انصاف پر مبنی تھا۔ اور عقلاً اخلاقا ہمار احق تھا کہ ہم مذکورہ بالا شرط سے مشروط مقابلہ کا مطالبہ کریں لیکن اگر کوئی شخص دنیا کے تمام انسانوں میں بھی آپ جیسے با کمال انسان کو پیش کر سکے تو ہم اس کے معاملہ پر غور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بشرطیکہ بے حیائی کا نام محمل نہ رکھ لیا جاوے۔ اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ بعض لوگ پیدائشی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو غصہ آتا ہی نہیں بلکہ جو معاملہ بھی ان سے کیا جائے وہ متحمل ہی تحمل کرتے ہیں اور غضب کا اظہار کبھی نہیں کرتے۔ اور اس کی یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے جوش کو دبا لیتے ہیں یا تحمل سے کام لیتے ہیں بلکہ در حقیقت ان کے دل میں جوش پیدا ہی نہیں ہو تا ۔ اور انہیں کسی بات کی حقیقت کے سمجھنے کا احساس ہی نہیں ہوتا اور یہ لوگ ہرگز کسی تعریف کے مستحق نہیں ہوتے۔ کیونکہ ان کا متحمل صرف ظاہری ہے۔ اس میں حقیقت کچھ نہیں ایک شکل ہے جس کی اصلیت کوئی نہیں۔ ایک جسم ہے جس میں روح کوئی نہیں۔ ایک قشر ہے جس میں مغز کوئی نہیں۔ اور ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی ٹنڈے شخص کو کوئی دوسرا شخص مارے۔ اور چونکہ اس کے ہاتھ نہیں ہیں وہ مار کھا کر صبر کر چھوڑے۔ اور جس طرح یہ ٹنڈا قطعا اس تعریف کا مستحق نہیں ہے کہ اسے تو زید یا بکر نے مار انگر اس نے آگے سے ایک طمانچہ بھی نہ لگایا کیونکہ اس میں طمانچہ لگانے کی طاقت ہی نہ تھی۔ کیونکہ اس کے ہاتھ نہ تھے۔ اس لئے مجبور تھا کہ مار کھاتا اور اپنی حالت پر افسوس کرتا۔ اسی طرح وہ شخص بھی ہرگز کسی تعریف کا مستحق نہیں ۔ جس کے دل میں جوش اور حس ہی نہیں۔ اور وہ بری بھلی بات میں تمیز ہی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس کا تحمل خوبی نہیں بلکہ اس کا باعث فقدان شعور ہے۔ پس ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ سوال کرے کہ کیوں آنحضرت ا کو بھی ایسا ہی نہ خیال کر لیا جائے۔ خصوصاً جبکہ اس قدر طاقت اور قدرت اور ایسے ایسے جوش دلانے والے مواقع پیدا ہو جانے کے باوجود آپ اس طرح ہنس کر بات ٹال دیتے تھے اور کیوں نہ خیال کر لیا جائے کہ آپ بھی پیدا ئشا ایسے ہی نرم مزاج پیدا ہوئے تھے۔ اور فطرتاً آپ مجبور تھے کہ ایسے ایذاء د ہندوں کے اعمال پر ہنس کر ہی خاموش ہو رہتے کیونکہ آپ کے اندر انتقام کا مادہ اور بری اور بھلی بات میں تمیز کی صفت موجود ہی نہ تھی۔ (نعوذ باللہ من ذالک) یہ سوال بالکل درست اور بجا ہے۔ اور ایک محقق کا حق ہے کہ وہ ہم سے اس کی وجہ دریافت