انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 595

: انوار العلوم جلد ! ۵۹۵ سيرة النبي سکتے تھے ۔ کیونکہ مال کا نہ دینا بخل سے متعلق ہے۔ پس آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو تم مجھے بخیل نہ پاتے یعنی تمہیں معلوم ہو جاتا کہ میں بخیل نہیں کیونکہ میں تمہیں مال دے دیتا اور جھوٹا بھی نہ پاتے ۔ یہ اس لئے فرمایا کہ بعض لوگ جھوٹ بول کر سائل سے پیچھا چھڑا لیتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ ہے نہیں۔ پس فرمایا کہ تمہیں یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ میں بخیل نہیں ہوں اور یہ بھی کہ جھوٹا نہیں ہوں کہ جھوٹ بول کر سب مال یا اس کا بعض حصہ اپنے لئے بچالوں اور نہ مجھے بز دل پاتے۔ یعنی میرا تمہیں مال دینا اس وجہ سے نہ ہوتا کہ میں تم لوگوں سے ڈر جاتا کہ کہیں مجھے نقصان نہ پہنچاؤ ۔ لیکن میں جو مال دیتا دل کی خوشی سے دیتا۔ شاید کوئی شخص کہے کہ آپ کے اتنا کہہ دینے سے کیا بنتا ہے کہ اگر میرے پاس ہو تا تو میں دے دیتا کیا معلوم ہے کہ آپ اس وقت دیتے یا نہ دیتے۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ہر سخن وقتے و ہر نکتہ مقامے دارد- میں اس جگہ یہ بتا رہا ہوں کہ آنحضرت ا کا تحمل کیسا تھا اور کس طرح آپ ناپسند اور مکروہ باتیں سن کر نرمی اور ملائمت سے جواب دیتے تھے ۔ اور خفگی اور ناراضگی کا اظہار قطعا نہ فرماتے بلکہ جہاں تک ممکن ہو تا معترض کو کوئی نیک بات بتا کر خاموش فرما دیتے ۔ آپ کی سخاوت کا ذکر تو دوسری جگہ ہو گا۔ اور اگر کوئی بہت مصر ہو تو میں آپ کے تحمل کی ایسی مثال بھی جس میں ایک طرف آپ نے تحمل فرمایا ہے اور دوسری طرف سخاوت کا اظہار فرمایا ہے دے سکتا ہوں اور وہ بھی صحیح بخاری سے ہے۔ اور وہ یہ کہ انس بن مالک بھی اللہ بیان فرماتے ہیں کہ كُنتُ امشي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ عَلَيْهِ بُرْدُ نَجْرَانِيُّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَادْرُ كَةَ أَعْرَابِ فَجَذَبَة جَذْبَةٌ شَدِيدَةً حَتَّى نَظَرْتُ إِلى صَفْحَةِ عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اثَرَتْ بِهِ حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَذْبَتِهِ ثُمَّ قَالَ : مُرْلِى مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ ۔ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ ۔ (بخارى كتاب الجهاد باب ما كان النبي يعطى المؤلفة قلوبهما یعنی میں ایک دفعہ آنحضرت ا کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ نے ایک نجران کی بنی ہوئی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس کے کنارے بہت موٹے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آپ کے قریب آیا اور آپ کو بڑی سختی سے کھینچنے لگا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے سختی سے کھینچنے کی وجہ سے چادر کی رگڑ کے ساتھ آپ کی گردن پر خراش ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ آپ کے پاس جو مال ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی دلوائیں پس آپ نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا کہ اسے کچھ دے دو۔