انوارالعلوم (جلد 1) — Page 593
انوار العلوم جلدا ۵۹۳ سيرة النبي الله سن کر خاموشی سے اپنے علم کا ثبوت دیتے ہیں لیکن میرے آقا کا تحمل بھی لغو نہ تھا اگر آپ خاموش رہتے تو اس کے اعتراض کا جواب کیا ہوتا آپ نے تحمل کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھایا او ر ا اور ایسا نمونہ جو کہ اپنے اندر ایک عظیم الشان سبق بھی رکھتا تھا اور معترضین کے لئے ہدایت تھا۔ کاش ! اس حدیث سے وہ لوگ کچھ نصیحت حاصل کریں جو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے پھر اعتراضات سے نہیں رکتے کیونکہ ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا یہ فعل خود ان کی شقاوت پر دال ہے۔ اب ایک اور مثال درج کرتا ہوں۔ جبیر بن مطعم بنی اللہ سے روایت ہے کہ : سے آر أَنَّه بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ مَعَهُ النَّاسُ مُقْبِلا مِنْ حُنَيْنٍ عَلِقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَعْرَابُ يَسْتَالُوْنَهُ حَتَّى اِضْطَرُّوهُ إِلى سَمُرَةِ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعْطُوْنِي رِدَائِي فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاءِ نَعَمَّا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُ ونِي بَخِيْلًا وَلَا كَذُوبًا وَلَا جبانا - (بخارى كتاب الجهاد باب ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطى المؤلفة قلوبهم، ایک دفعہ وہ آنحضرت ال اس کے ساتھ تھے اور آج اور آپ کے ساتھ اور بھی لوگ تھے ۔ آ۔ - آپ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ راستہ میں کچھ بادیہ نشین عرب آگئے ۔ اور آپ کے پیچھے پڑ گئے اور آپ سے سوال کرنے لگے ۔ اور آ۔ اور آپ پر اس قدر زور ڈالا کہ ہٹاتے ہٹاتے کیکر کے درخت تک لے گئے ۔ جس آپ کی چادر پھنس گئی۔ پس آپ ٹھہر گئے اور فرمایا کہ میری چادر مجھے پکڑا دو۔ اگر ان کانٹے دار درختوں کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوتے (یعنی بہت کثرت سے ہوتے) تو بھی میں سب تم میں تقسیم کر دیتا اور تم مجھ کو بخیل اور جھوٹا اور بزدل نہ پاتے اللہ اللہ یہ وہ شخص ہے جسے ناپاک طبع انسان دنیا طلب کہتے ہیں۔ اور طرح طرح کے ناپاک الزام لگاتے ہیں یہ وہ انسان ہے جسے اندھی دنیا مغلوب الغضب کہتی ہے یہ وہ وجود ہے جسے ظالم انسان ظالم قرار دیتے ہیں کیا اس تحمل والا انسان ظالم یا مغلوب الغضب ہو سکتا ہے۔ کیا اس سیر طبیعت کا انسان دنیا طلب ہو سکتا ہے۔ عرب کا فاتح اور حنین کا بہادر اپنے خطرناک دشمن کو شکست دے کر واپس آرہا ہے۔ ابھی اس کے سپاہیوں کی تلواروں۔ اروں سے خون کا رنگ بھی نہیں چھوٹا ز بر دست سے زبردست انسان اس کو پیٹھ دکھا چکے ہیں اور اس کی تیز تلوار کے آگے اپنی گردنیں جھکا چکے ہیں۔ اور وہ اپنی فتح مند افواج کے ساتھ میدان جنگ سے واپس آرہا ہے مگر کس شان سے اس کا حال ابھی پڑھ چکے ہو۔ کچھ عرب آکر آپ سے سوال کرتے ہیں اور پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں کہ کچھ لئے بغیر نہیں لوٹیں گے آپ بار بار انکار کرتے ہیں