انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 591

انوار العلوم جلدا ۵۹۱ سيرة النبي تاک میں لگے رہتے تھے کہ کوئی موقعہ ملے تو ہم آپ پر اعتراض کریں۔ کوئی نہ کوئی راہ نکال کر ذوالخویصرہ التیمی نے عین تقسیم کے وقت بڑھ کر کہا کہ آپ اس تقسیم میں عدل کو مد نظر رکھیں۔ جس سے اس کی مراد یہ تھی کہ آپ اس وقت عدل سے کام نہیں لے رہے امام بخاری صاحب نے اس واقعہ کو حضرت جابر سے یوں روایت کے وایت کیا ہے کہ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا قُرَّةً حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ غَنِيمَةً بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ : اِعْدِلُ فَقَالَ لَهُ لَقَدْ شَقِيْتَ إِنْ لَمْ أَعْدِلُ ) - (كتاب الجهاد باب و من الدليل على ان الخمس لنوائب المسلمين یعنی آنحضرت الله اموال غنیمت کو جعرانہ کے مقام ترانہ کے مقام پر تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے آپ کے نے آپ کو کہا کہ آپ عدل سے کام لیں۔ آپؐ نے جواب دیا کہ اگر میں نے عدل نہیں کیا تو تو بڑی بے برکتی اور بد بختی میں مبتلا ہو گیا۔ اللہ اللہ کیسے خطرناک حملہ کا جواب وہ پاک رسول مکس نرمی سے دیتا ہے کس حلم سے اسے سمجھاتا ہے۔ آنحضرت ا سے جو عشق صحابہ کو تھا وہ ایسا نہ تھا کہ وہ ایسی باتیں برداشت کر سکتے۔ بلکہ حضرت عمرؓ اور خالد بن ولید تو ہمیشہ ایسے مواقع پر تلوار کھینچ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ مگر انحضرت الی ان کو ہمیشہ روکتے رہتے تھے کہ ان لوگوں سے اعراض کرو۔ پس ایسے وقت میں جبکہ مکہ کے حدیث العهد مسلمان جو ابھی ان آداب سے بالکل ناواقف تھے جو ایک رسول کے حضور بجالانے ایک مؤمن کا فرض ہوتا ہے اور جو ایک ذرہ سے اشارہ سے صراط مستقیم سے ہٹ کر کہیں کے کہیں پہنچ سکتے تھے آپ کے ارد گرد کھڑے تھے اور وہی وقت تھا جب انہوں نے یہ سبق سیکھنا تھا کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ ہمیں کس طرح عمل کرنا چاہئے ایک شخص کا آگے بڑھ کر نہایت بے حیائی سے آپ سے کہنا کہ حضور ذرا عدل مد نظر رکھیں اور بے انصافی اور حق تلفی نہ کریں ایک خطرناک فعل تھا۔ جس سے ایک طرف تو ان قوانین کی خلاف ورزی ہوتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ساتھ کلام کرنے کے متعلق بیان فرمائے ہیں۔ دوسرے ان تمام مواعید پر پانی پھر جاتا تھا جو اس شخص نے آنحضرت اللہ کے حضور کئے تھے اور جو ہر ایک مسلمان کو مسلمان ہونے کے لئے کرنے پڑتے ہیں۔ تیسرے سیاسی لحاظ سے آپ کے رعب کو ایک خطر ناک نقصان پہنچانے والے تھے ۔ اور چوتھے نو مسلموں کے لئے ایک نہایت بد نظیر قائم کرنے والے تھے جن کے دل ابھی اس عزت کا خیال بھی نہیں کر سکتے تھے جو صحابہ کے دلوں میں بھری ہوئی تھی۔ پس وہ الفاظ جو ذوالخویصرہ کے منہ سے اس وقت نکلے ایک دنیاوی دربار میں