انوارالعلوم (جلد 1) — Page 33
انوار العلوم جلد 1 ٣٣ محبت الهی عیسائیوں کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ذرا رحم عدالت پر غالب ہوتا ہے " کے معنی تو بتائیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دانیال نبی کی کتاب باب ۹ آیت ۱۶ میں لکھا ہے ۔ "اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو اپنی ساری راست بازی کے موافق اپنے قہر اور اپنے خشم سے جو تیرے ہی شہریو رو شلم پر ہے جو کوہ مقدس ہے دست بردار ہو ۔ کیونکہ ہمارے گناہوں کے اور ہمارے باپ دادوں کی شرارتوں کے سبب سے یور د شلم اور تیرے لوگ ان ساری قوموں کے حضور میں جو آس پاس ہیں مورد ملامت ہوئے " اس جگہ دانیال نبی اپنے گناہوں اور اپنی قوم کے گناہوں کی معافی خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں۔ پس اگر وہ گناہ معاف نہیں کر سکتا اور عادل ہے تو دانیال نبی کا یہ فعل عبث ہو جاتا ہے مگر اس کے برخلاف جبریل نے آکر ان کو سنایا ہے کہ تیری دعا سنی گئی اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ تو اریخ نمبر ۲ باب ۳۰ آیت ۲۱ میں لکھا ہے کہ حزقیاہ نے بنی اسرائیل کیلئے دعا مانگی اور خداوند نے اس کی سنی اور معاف کیا " ( فارن بائبل سوسائٹی ۔ مشن سٹیم پریس لودھیا نہ مطبوعہ ۱۹۰۸ء) کیا عیسائی صاحبان اتنا نہیں سمجھ سکتے کہ جب خدا کی عادت ہے کہ وہ گناہ معاف کر دیتا ہے تو کیوں اس کو لغو کام سوجھا کہ اپنے بیٹے کو مفت میں پھانسی دلوائی اور لوگوں کے گناہ معاف نہ کئے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی اس بات کے جواب میں بعض دفعہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یسوع سے پہلے جو لوگ بیٹے پر ایمان رکھتے تھے ان کے گناہ بھی بخشے گئے لیکن اس جگہ یہ بات بھی نہیں کیونکہ ایمان لانے والے کے گناہ تو پہلے ہی بخشے گئے خدا نے یہ کیا لغو بات کہی کہ میں نے حزقیاہ کی دعا سن کر گناہ معاف کئے جو کفارہ پر پہلے سے ہی ایمان لائے ہوئے تھے اور جن کا یقین اور اخلاص اول ہی سے کامل تھا ان کو گناہگار ٹھرانا ایک بہت بڑی نا انصافی ہے اور یا تو اس جگہ خدا سے ہی غلطی ہو گئی ہے یا حز قیل نبی نے نعوذ باللہ افتراء سے کام لیا اور مخلوق الہی کو دھوکہ دینا چاہا ہے اور یہ دونوں ایسی صورتیں ہیں کہ ان میں سے ایک کو مان کر بھی عیسائیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ مگر نہیں جس مذہب کا خدا گناہ سے پاک نہیں اس میں ایک نبی پر تہمت کا لگنا اور گناہگار ثابت ہونا کوئی بڑی بات نہیں پھر ہم دیکھتے ہیں اب تک جو ہم نے ثابت کیا ہے یہ ہے کہ عیسائیوں کا خدا اول تو اس قابل ہی نہیں کہ وہ سمجھ میں آسکے اور پھر اس کی باتیں اور کلام کچھ ایسی متناقض واقع ہوتی ہیں کہ ایک عقلمند سے عقلمند انسان ان کے سمجھنے سے قاصر ہے کیونکہ ایک طرف تو وہ گناہ معاف کرتا ہے اور دوسری طرف وہ کہتا ہے کہ میں عادل ہوں اور گناہ معاف نہیں کر سکتا۔ یہ بات تعجب اور حیرت سے دیکھنے کے قابل ہے کہ خدائے قادر کو کیا ضرورت پڑی کہ اس نے ایسا دو رخا