انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 584

انوار العلوم جلدا ۵۸۴ سيرة النبي تھے اور پھر سوئے ہوئے جاگے تھے جس کی وجہ سے کوئی ظاہری تدبیر دشمن کے حملہ کو روکنے کی نہ تھی اور پھر آپ غیر علاقہ میں تھے اور دشمن اپنی جگہ پر تھا جہاں اپنی حفاظت کا اسے ہر طرح یقین تھا مگر باوجود ان حالات کے آپ نے ایک ذرہ بھر بھی تو گھبراہٹ ظاہر نہ کی۔ اس اعرابی کا یہ کہنا بھی کہ اب تجھے کون بچا سکتا ہے صاف ظاہر کرتا ہے کہ اسے بھی کامل یقین تھا کہ اب کوئی دنیاوی سامان ان کے بچاؤ کا نہیں مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص پر میں حملہ کرنا چاہتا ہوں وہ معمولی انسانوں میں سے نہیں بلکہ ان میں سے ہے جو خالق ارض و سما کے دربار کے مقرب اور اس کے ظل عافیت کے نیچے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ آنحضرت نے اسے جس آرام اور اطمینان قلب کے ساتھ جواب دیا ہے کہ مجھے اللہ بچائے گاوہ روز روشن کی طرح اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ آپ کے دل میں غیر اللہ کا خوف ایک لحہ کے لئے بھی نہیں آتا تھا اور آپ کا دل ایسا مضبوط اور قوی تھا کہ خطر ناک سے خطرناک اوقات میں بھی اس میں گھبراہٹ کا وجود نہ پایا جاتا تھا اور اپنے حواس پر آپ کو اس قدر قدرت تھی کہ اور تو اور خود دشمن بھی جو آپ کے قتل کے ارادہ سے آیا تھا بد حواس ہو گیا اور اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی کیونکہ اس نے دیکھ لیا کہ میں ایک ایسی طاقت کا مقابلہ کر رہا ہوں جسے نقصان پہنچانے کی بجائے میں خود تباہ ہو جاؤں گا۔ آنحضرت اللہ کبھی ضد سے کام نہ لیتے تھے بلکہ جس بات میں خیر ہمیشہ خیر اختیار کرتے دیکھتے اس کو اختیار کرتے تھے اور قطعا اس بات کی پرواہ نہ کرتے کہ اس سے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں ہوتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ رجالِ سیاست دنیویہ نے اپنے اصولوں میں سے ایک یہ اصل بھی بنا رکھی ہے کہ بادشاہ یا حاکم جو حکم دے دے اور جو فیصلہ کر دے اس میں تغیر نہ کرے اور جس طرح کیا ہے اس پر قائم رہے تاکہ لوگوں کے دل میں یہ نہ خیال پیدا ہو کہ ہم نے ڈرا کر منوا لیا ہے یا کم سے کم دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے کہ ایک بات کہہ کر پھر اس سے رجوع کر لیا ہے اور اس اصل پر رجال سیاست ایسے پکے اور قائم رہتے ہیں کہ بعض اوقات جنگوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے مگر وہ اپنی بات کی بیچ کے لئے اور دبدبہ حکومت قائم رکھنے کے لئے ملک کو جنگ میں ڈال دیتے ہیں لیکن اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اپنے فیصلہ کو واپس لے لیں۔ جو لوگ تاریخ انگلستان سے واقف ہیں ان سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ ریاستہائے متحدہ سے