انوارالعلوم (جلد 1) — Page 581
انوار العلوم جلد 1 ۵۸۱ سيرة النبي ال بڑا بننا چاہتے ہیں اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ کیا وہ بغیر امتیاز جھوٹ اور بیچ کے اپنی شان دو بالا نہیں کرنی چاہتے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک انسان کو بغیر اس کے اشارہ کے کچھ لوگ وہ شان دینا چاہتے ہیں جو اگر کسی انسان میں پائی جائے تو وہ مرجع خلائق بن جائے تو وہ انہیں روکتا ہے اور فورا کہہ دیتا ہے کہ اور اور باتیں کرو مگر ایسا کلام منہ پر نہ لاؤ جس سے اس وحدہ لا شریک ذات کی ہتک ہوتی ہو جو سب دنیا کا خالق و مالک ہے اور میری طرف وہ باتیں منسوب نہ کرو جو در حقیقت مجھ میں نہیں پائی جاتیں۔ ہاں بتلاؤ تو سہی کہ اس کا کیا سبب ہے ؟ کیا یہ نہیں کہ وہ دنیا کی عزتوں کا محتاج نہ تھا بلکہ خدا کی رضا کا بھوکا تھا۔ دنیا اس کی نظر میں ایک مردار سے بھی کم حیثیت رکھتی تھی۔ اور جرا آرام و آسائش کے اوقات میں اپنے ہوش و حواس پر قابو رکھنا کوئی بات نہیں۔ انسان کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس پر کوئی مشکل پیش آئے اور پھر اس میں وہ اپنے حواس کو قائم رکھے اور بد حواس نہ ہو جائے ۔ آنحضرت کو اپنی عمر میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے اور بہادری جرات میں آپ نے اپنے آپ کو بے نظیر ثابت کر دکھایا ہے جیسا کہ ہم اس سے پہلے مختلف واقعات سے ثابت کر چکے ہیں ان مصائب و آسائش کے مختلف دوروں نے آپ کی عظمت اور جلال کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہر حالت میں اپنی کوئی نہ کوئی خوبی ظاہر کی ہے۔ خواہ عسر کا زمانہ ہو یا پیر کا۔ آپؐ بے عیب ثابت ہوئے ہیں اور آپ کی شان ارفع سے ارفع تر ثابت ہوئی ہے۔ نہ تو مصائب کے ایام میں آپ سے کوئی ایسی بات ظاہر ہو ، ظاہر ہوئی جس سے آپ پر عیب گیری کا موقع ملے نہ خوشی کے دنوں میں آپ سے کوئی ایسا فعل سرزد ہوا جس سے آپ پر اعتراض کرنے کی گنجائش پیدا ہو ہر رنگ اور شکل میں آپ دنیا کے لئے ایک قابل قدر نمونہ ثابت ہوئے ہیں۔ جرات و بہادری کی نسبت تو میں لکھ چکا ہوں اس جگہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آنحضرت کو اپنے حواس پر کیسا قابو تھا اور کس طرح خطر ناک سے خطرناک مصائب میں آپ استقلال اور ٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرنے کے عادی تھے اور آپ سے کبھی کوئی ایسی حرکت نہ ہوتی تھی جس سے کسی قسم کی گھبراہٹ ظاہر ہو اور یہ بھی کہ کیوں کر ہر ایک مصیبت میں آپ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ ہی دکھائی دیتا تھا۔ یہ تو میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ آنحضرت ا دوسرے بادشاہوں کی طرح اپنے ساتھ کوئی پہرہ یا گارڈ نہیں رکھتے تھے بلکہ دوسرے صحابہ کی طرح آپ بھی اکیلے اپنے کام میں مشغول رہتے تھے ایسے اوقات میں دشمن کو جس قدر دکھ پہنچانے کے مواقع مل سکتے ہیں وہ ایک واقف کار انسان کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہو سکتے ۔ جو انسان ایک ہی وقت میں اپنے ملک کے ہر طبقہ کے انسانوں