انوارالعلوم (جلد 1) — Page 579
: انوار العلوم جلد ا ۵۷۹ سيرة النبي ربیع بنت معودؓ سے روایت ہے کہ دَخَلَ عَلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ بُنِيَ عَلَى فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي وَجُوَيْرِ يَاتُ يَضْرِ بْنَ بِالدَّفِّ يَنْدُ بْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِهِنَّ يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى يَوْمَ بَدْرٍ حَتَّى قَالَتْ جَارِيَةً وَفِيْنَا نَبِيَّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُوْلِى هُكَذَا وَقُولِى مَا : ن مَا كُنْتِ تَقُولِينَ ) ( بخاری کتاب المغازی باب قصه غزوه بدر ) یعنی جس دن میری شادی ہوئی ہے اس دن آنحضرت " میرے پاس تشریف لائے اور میرے فرش پر بیٹھ گئے اسی طرح جس طرح تو بیٹھا ہے (یہ بات رادی کو کھی) اور کچھ لڑکیاں دف بجا رہی تھی اور بدر کی جنگ میں جو ان کے بزرگ مارے گئے تھے ان کی تعریفیں بیان کر رہی تھیں یہاں تک کہ ایک لڑکی نے یہ مصرع پڑھنا شروع کیا اس مصرع کا ترجمہ یہ ہے) کہ ہم میں ایک رسول ہے جو کل کی بات جانتا ہے۔ اس بات کو سنکر آنحضرت نے اسے ٹوکا اور فرمایا کہ یہ مت کہو اور جو کچھ پہلے گارہی تھی وہی گاتی جا۔ یہ وہ اخلاق ہیں جو انسان کو حیران کر دیتے ہیں اور وہ ششدر رہ جاتا ہے کہ ایک انسان ان تمام کمالات کا جامع ہو سکتا ہے۔ بے شک بہت سے لوگوں نے جن کی زبان تیز تھی یا قلم رواں تھی تقریر و تحریر کے ذریعہ اعلیٰ اخلاق کے بہت سے نقشے کھینچے ہیں لیکن وہ انسان ایک ہی گزرا ہے جس نے صرف قول سے ہی نہیں بلکہ عمل سے اعلیٰ اخلاق کا نقشہ کھینچ دیا اور پھر ایسا نقشہ کہ اس کی یاد چشم بصیرت رکھنے والوں کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ ایک طرف دنیا کو ہم اپنی تعریف و مدح کا ایسا شیدا دیکھتے ہیں کہ خلاف واقعہ تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں اور جن کی مدح کی جاتی ہے بجائے ناپسند کرنے کے اس پر خوش ہوتے ہیں اور ایک طرف آنحضرت کو دیکھتے ہیں کہ ذرا منہ سے ایسا کلام سنا کہ جو خلاف واقعہ ہے تو باوجود اس کے کہ وہ اپنی ہی تعریف میں ہوتا اس سے روک دیتے اور کبھی اسے سننا پسند نہ فرماتے ہیں تفاوت راه از کجاست تا بکجا۔ اہل دنیا کدھر کو جا رہے ہیں اور وہ ہمارا پیارا کدھر کو جاتا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ ایسے بھی لوگ پائے جاتے ہیں کہ جو اپنی تعریف کو پسند نہیں کرتے اور بے جا تعریف کرنے والے کو روک دیتے ہیں اور بادشاہوں میں سے بھی ایسے آدمی گزرے ہیں مگر آپ کے فعل اور لوگوں کے فعل میں ایک بہت بڑا فرق ہے جو آپ کے عمل کو دو سروں کے اعمال پر امتیاز عطا کرتا ہے انگلستان کے مؤرّخ اپنے ایک بادشاہ (کینٹوٹ) کے اس فعل کو کبھی اپنی یاد سے اترنے نہیں دیتے کہ اس نے اپنے بعض درباریوں کی بے جا خوشامد کو ناپسند کر کے انہیں ایسا سبق