انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 570

انوار العلوم جلد ! سيرة النبي کر کعبہ کی تعمیر کی تھی تو اس وارث علوم سماویہ نے مدینہ منورہ کی مسجد کی تعمیر میں اینٹیں ڈھونے میں اپنے اصحاب کی مدد کی۔ کہنے کو تو سب بزرگی اور تقویٰ کا دعویٰ کرنے کو تیار ہیں مگر یہ عمل ہی ہے جو پاکبازی اور زبانی جمع خرچ کرنے والوں میں تمیز کر دیتا ہے اور عمل ہی میں آکر سب مدعیان تقویٰ کو آپ کے سامنے با ادب سر جھکا کر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس حدیث سے اگر ایک طرف ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت اللہ کو اللہ تعالی کی راہ میں کسی قسم کے کام کرنے سے خواہ وہ بظاہر کیسا ہی ادنی کیوں نہ ہو کسی قسم کا عار نہ تھا۔ آپ" اس معبود حقیقی کی رضا کی تمام راہوں میں دوسروں سے آگے قدم مارتے تھے تو دوسری طرف یہ امر بھی روشن ہو جاتا ہے کہ آپ ماتحتوں سے کام لینے کے ہر فن میں بھی اپنی نظیر آپ ہی تھے ۔ تاریخ نے ہزاروں لاکھوں برسوں کے تجربات کے بعد ثابت کیا ہے کہ ماتحتوں میں جوش پیدا کرنے اور انہیں اپنے فرائض کے ادا کرنے میں ہو شیار بنانے کا سب سے اعلیٰ اور عمدہ نسخہ میں ہے کہ خود آفیسر بھی انہیں کام کر کے دکھائیں۔ اور جو شخص خود کام کرے گا اس کے ماتحت ضرور کام میں چست و چالاک ہوں گے مگر جو آفیسر کام سے جی چرائے گا اس کے ماتحت بھی اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کو تاہی کریں گے اور بہانہ ہی ڈھونڈتے رہیں گے کہ کسی طرح اپنی جان چھڑائیں۔ آنحضرت نے اس گر کو ایسا سمجھا تھا کہ آپ کی ساری زندگی اس قسم کی مثالوں سے پُر ہے۔ آپ اپنے ماتحتوں کو جو حکم بھی دیتے اس میں خود بھی شریک ہوتے اور آپ کی نسبت کوئی انسان یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپ صحابہ کو ، صحابہ" کو مشکلات میں ڈا ات میں ڈال کر خود آرام سے بیٹھ رہتے ہیں ؟ رہتے ہیں بلکہ آپ ہر ایک کام میں شریک ہو کر ان کے لئے ایک ایسی اعلیٰ اور ارفع نظیر قائم کر دیتے کہ پھر کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا موقع نہ رہتا اگر کوئی افسر اپنے ماتحتوں کو کوئی حکم دے کر خود آرام سے پیچھے بیٹھ رہے تو ضرور ان کے دل میں خیال گزرے گا کہ یہ شخص خود تو آرام طلب ہے مگر دو سروں کو ان کی طاقت سے بڑھ کر کام دیتا ہے اور گو مفوضہ کام زیادہ بھی نہ ہو تو بھی وہ بالطبع خیال کریں گے کہ انہیں ان کی طاقت سے زیادہ ادہ کام کام دیا دیا گیا گیا ہے ہے ! اور اس بے دلی ولی کی کی وجہ وجہ ۔ سے وہ جس قدر کام کر سکتے ہیں اس اس ۔ سے نصف بھی نہ کر سکیں گے اور جو کچھ کریں گے بھی وہ بھی ادھورا ہوگا را ہو گا مگر جب خود افسر اس کام میں شریک ہو گا اور سب سے آگے اس کا قدم پڑتا ہو گا تو ما تحت شکایت تو الگ رہی اپنی طاقت اور قوت کا سوال ہی بھول جائیں گے اور ان میں کوئی اور ہی روح کام کرنے لگے گی۔