انوارالعلوم (جلد 1) — Page 568
انوار العلوم جلد 1 ۵۶۸ سيرة النبي ا سب کاموں میں صحابہؓ کے مدد گار رہتے انحضرت الله کی کونسی خوبی ہے جسے انسان آپ مسجد کی اینٹیں ڈھوتے رہتے خاص طور پر بیان کر سکے۔ کوئی شعبہ زندگی بھی تو پر نہیں جس میں آپ دوسروں کے لئے نظیر نہ ہوں۔ مختلف خوبیوں میں مختلف لوگ باکمال ہوتے ہیں مگر یہ دین و دنیا کا بادشاہ تو ہر بات میں دوسروں پر فائق تھا۔ جو بات بھی لو اس میں آپ کو صاحب مگر یہ کمال پاؤ گے ۔ میں نے پچھلے باب میں بتایا تھا کہ آپ اپنے گھر میں بیویوں کو ان کے کاموں میں مدد دیتے تھے مگر اب اس سے زیادہ میں ایک واقعہ بتاتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں آپ کسی ادنیٰ سے ادنی کام میں حرج نہ دیکھتے تھے بلکہ اس میں فخر محسوس کرتے تھے اور صحابہ دوش بدوش ہو کر ہر ایک چھوٹے سے چھوٹا کام کرتے اور کبھی یہ نہ ہو تا کہ انہیں حکم دے دیں اور آپ خاموش ہو کر بیٹھ رہیں ۔ صحابہ کی خوشی تو اس میں تھی کہ آپ آرام فرمائیں اور وہ آپ کے سامنے اپنی فدائیت اور اخلاص کے جوہر دکھا ئیں مگر آپ کبھی اس کو پسند نہ فرماتے اور ہر کام میں خود شریک ہوتے اور صحابہ کا ہاتھ بٹاتے۔ کے ۔ حضرت عائشہ ہجرت کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کر کے فرماتی ہیں کہ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَاءَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرَكَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلِّى فِيْهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مِرْ بَدَا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْلٍ وَسَهْلٍ غُلَا مَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرٍ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ بَرَكَتْ بِهِ رَا حِلَتُهُ هُذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَادَ سُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّلَامَيْنِ فَسَا وَ مَهُمَا بِالْمِرْ بَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالاً لا بَلْ نَهَبُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَا بِي رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُمَا هِبَةً حَتَّى ابْتَاعَهُ مِنْهُمَا ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا وَ ا وَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُما نقُلُ مَعَهُمُ اللَّبِنَ فِي بُنْيَانِهِ وَيَقُولُ وَهُوَ يَنْقُلُ اللَّبِنَ هُذَا الْحِمَالُ لاَ حِمَالَ خَيْبَرَ هُذَا اَبَرٌ رَبَّنَا وَأَظْهَرُ وَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْأَجْرَاجْرُ الْآخِرَةِ فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ (بخاري باب هجرة النبي صلى الله عليه و سلم و اصحابه الى المدينه ینه یعنی پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور بنی عمرو بن عوف کے پاس۔ س سے جہاں آپ آ سب سے پہلے آکر A