انوارالعلوم (جلد 1) — Page 564
انوار العلوم جلدا ۵۶۴ سيرة النبي ال یروه اور بادشاہ ہو کر فقر اختیار کیا یہ بات آنحضرت ا اور آپ کے خدام کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی ۔ جن لوگوں کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔ وہ اپنے رہنے کے لئے مکان بھی نہ پاتے تھے اور دشمن جنہیں کہیں چین سے نہیں رہنے دیتے تھے کبھی کہیں اور کبھی کہیں جانا پڑتا تھا ان کے ہاں کی سادگی کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں۔ جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے شان و شوکت سے کیا رہنا ہے مگر ملک عرب کا بادشاہ اہ ہو کر لاکھوں روپیہ اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحاب بصیرت کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے بغیر نہیں رہ سکتی۔ عرب کے ملک میں اب بھی چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں اور ان کے افسر یا امیر جس طرز رہائش کے عادی ہیں انہیں بھی جاننے والے جانتے ہیں۔ خود شریف مکہ جنہیں صرف حجاز میں ایک حد تک دخل و تصرف حاصل ہے انہی کے دروازہ پر بیسیوں غلام موجود ہیں جو ہر وقت خدمت کے لئے دست بستہ ہیں مگر آنحضرت سارے عرب پر حکمران تھے ۔ یمن اور حجاز اور نجد اور بحرین تک آپ کے قبضہ میں تھے مگر باوجود تمام عرب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں پر حکومت کرنے کے آپ کا گھر کے کاروبار خود کرنا اس پاکیزگی کی طرف متوجہ کر رہا ہے جو آپ کے ہر فعل سے ہویدا تھی۔ دنیا طلبی اور اظہار جاہ و جلال کی آگ اس وقت لوگوں کے دلوں کو جلا رہی تھی اور امراء تو اس کے بغیر امراء ہی نہیں سمجھے جاتے تھے مگر اس آگ میں سے سے سلامت نکلنے والا صرف وہی ابراہیم کا ایک فرزند ( ا ) تھا جس نے اپنے دادا کا معجزہ اور بھی بڑی شان کے ساتھ دنیا کو دکھایا۔ میں نے پچھلے باب میں آنحضرت ا کی سادگی کا ذکر کیا ہے کہ آپ کس طرح تکلفات سے محفوظ تھے اور آپ کا ہر ایک فعل اپنے اندر سادگی اور بے تکلفی کا رنگ رکھتا تھا اب میں آپ کی سادہ زندگی کا حال بیان کرنا چاہتا ہوں۔ سے جو لوگ اس زمانہ کے امراء اور دولتمندوں کے دیکھنے کے عادی ہیں کھجور اور پانی پر گزارہ وہ تو خیال کرتے ہوں گے کہ رسول اللہ ﷺ بھی انہیں کی طرح اللہ عمدہ عمدہ کھانے کھایا کرتے ہوں گے اور ایک شاہانہ دستر خوان آپ کے آگے بچھتا ہو گا لیکن وہ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ واقعہ بالکل خلاف تھا۔ اور اگر ایک طرف آنحضرت ا سادگی کے کامل نمونہ تھے تو دوسری طرف سادہ زندگی میں بھی آپ دنیا کے لئے ایک نمونہ تھے ۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بھانجہ حضرت عروہ سے فرمایا يَا ابْنَ أُخْتِى إِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَمِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ وَمَا أُوْ قِدَتْ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى