انوارالعلوم (جلد 1) — Page 558
انوار العلوم جلد ا ۵۵۸ سيرة النبي ال گئیں۔ پھر کچھ میوہ کھا رہے تھے اس کی گٹھلیوں کی وہ بوچھاڑ شروع ہوئی کہ الامان۔ میں نے تو سمجھا کہ اس گولہ باری میں میری خیر نہیں ایک کو نہ میں ہو کر بیٹھ گیا۔ اور جب یہ سادگی ختم ہوئی تو میری جان میں جان آئی کہ آنکھ ناک سلامت رہے۔ جو نمونہ سادگی اس مجلس کے ممبران نے دکھایا جو ہندو مسلمان دونوں قوموں میں سے تھے اس سے تو ان کے تکلف کو میں لوگوں کے لئے ہزار درجہ بہتر سمجھتا ہوں مگر اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ تکلف خود ان لوگوں کے لئے وبال جان ہو رہا تھا اور ہے ۔ گو وہ خوش نظر آتے ہیں مگر در حقیقت اپنی جھوٹی عظمت اور عزت قائم کرنے کے لئے لوگوں کے سامنے ایسے سنجیدہ بنے رہتے ہیں اور ایسے بنے ٹھنے رہتے ہیں کہ اپنے حقیقی جذبات کو چھپانے اور اپنے جسم کو حد سے زیادہ مشقت میں ڈالنے کی وجہ سے ان کے دل مردہ ہو گئے ہیں اور زندگی ان کے لئے تلخ ہو گئی ہے۔ امراء کے مقابلہ میں دو سر اگر وہ علماء اور صوفیاء کا ہے جو دین کے عماد اور ستون سمجھے جاتے ہیں یہ بھی تکلفات میں مبتلا ہیں اور انہیں بھی اپنی عزت کے قائم رکھنے کے لئے تکلف سے کام لینا پڑتا ہے ۔ اپنی چال میں، اپنی گفتگو میں اپنے اٹھنے بیٹھنے میں اپنے پہننے میں اپنے کھانے میں ہر بات میں تکلفات سے کام لیتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اس سے ہمار ا تقدس ثابت ہوتا ہے۔ یہ مذہبی لیڈر خواہ کسی مذہب کے ہوں اس مرض میں مبتلا ہیں۔ مسلمان صوفیاء کو ہی کوئی جا کر دیکھے کس طرح مراقبہ کی حالت میں اپنے مریدوں کے سامنے بیٹھتے ہیں مگر بہت ہوتے ہیں جن کے دل اندر سے اور ہی خواہشات رکھتے ہیں اور ان کی زندگیاں اپنے بھائیوں یعنی امراء سے زیادہ سکھ والی نہیں ہو تیں بلکہ شاید کچھ زیادہ ہی تلخ ہوں کیونکہ وہ اپنے جذبات کے پورا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں مگر علماء اور صوفیاء اس سے بھی محروم ہیں۔ میری اس بیان سے یہ غرض ہے کہ دنیا میں تکلف کا بہت دور دورہ ہے اور دینی اور دنیادی دونوں قسم کے عظماء اس مرض میں مبتلا ہیں اور نہ صرف آج بتلا ہوئے ہیں بلکہ دنیا میں یہ نقشہ ہمیشہ سے قائم ہے اور سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید و نصرت ہو اور بہت کم لوگ اس بناوٹ سے بچ سکتے ہیں۔ آپ" ہمارے ہادی اور رہنما آنحضرت ﷺ تو رحمتہ للعالمین ہو کر آئے تھے اور اللہ تعالی نے پ کو کل دنیا کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اس لئے آپ نے ہمارے لئے جو نمونہ قائم کیا وہی سب سے درست اور اعلیٰ ہے اور اس قابل ہے کہ ہم اس کی نقل کریں۔ آپ نے اپنے طریق