انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 556

انوار العلوم جلدا ۵۵۶ سيرة النبي آپ کی احتیاط تھی کہ درخواست کرنے والے کو کوئی عہدہ ہی نہیں دیتے تھے۔ در حقیقت اگر غور کیا جائے تو ایک شخص جب کسی عہدہ کی خود درخواست کرتا ہے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کوئی غرض ہے اور کچھ تعجب نہیں کہ اس عہدہ پر قائم ہو کر وہ لوگوں کو دکھ دے اور ان کے اموال پر دست اندازی کرئے ۔ مگر جس شخص کو اس کی درخواست کے بغیر کسی عہدہ پر مامور کیا جائے تو اس سے بہت کچھ امید ہو سکتی ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لے گا اور لوگوں کے حقوق کو تلف نہ کرے گا کیونکہ اسے اس عہدہ کی خواہش ہی نہ تھی بلکہ خود بخود اسے سپرد کیا گیا ہے ۔ دوسرے یہ بھی بات ہے کہ جب حاکم یہ فیصلہ کر دے کہ جو شخص خود کسی عہدہ کی درخواست کرے یا کسی سے سفارش کروائے اسے کوئی عہدہ دینا ہی نہیں تو اس سے یہ بڑا فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ کے لئے جائز و نا جائز و سائل سے حکام کے مزاج میں دخل پیدا کرنے کا بالکل سد باب ہو جاتا ہے اور خوشامد بند ہو جاتی ہے کیونکہ حکام سے رسوخ پیدا کرنے یا ان کی جھوٹی خوشامد کرنے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ کچھ نفع حاصل کیا جائے۔ پس جب حاکم یہ فیصلہ کر دے کہ جو خود درخواست کرے گا اسے کسی عہدہ پر مأمور نہ کیا جائے گا تو ان تمام باتوں کا سد باب ہو جاتا ہے ۔ اور گو آنحضرت ا کا نفس پاک ان عیبوں سے بالکل پاک تھا کہ آپ کی نسبت یہ خیال کیا جا سکے کہ آپ کسی کی بات میں آجائیں گے مگر آپ نے اس طریق عمل سے مسلمانوں کے لئے ایک نہایت شاندار سڑک تیار کر رکھی ہے جس پر چل کر وہ حکومت کی بہت سی خرابیوں سے بچ سکتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ دوسری قوموں کی نسبت مسلمان حکومتوں میں ہی حکام کے منہ چڑھ کر لوگ بہت فائدہ اٹھاتے ہیں اور سفارشوں سے جو کام نکلتے ہیں وہ لیاقت سے نہیں نکلتے ۔ اگر مسلمان حکام اس طرف غور کرتے تو آج اسلامی حکومتوں کا وہ حال نہ ہوتا جو ہے۔ اور پھر آنحضرت جن لوگوں کی نسبت یہ احتیاط برتتے تھے ایسے لوگ بھی تو وہ آجکل نہیں۔ صحابہ " تو وہ تھے کہ جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنے مال اور ۔ اور جانیں بھی لٹا دیں دوسروں کے اموال کی طرف کب نظر اٹھا کر دیکھ سکتے تھے ۔ مگر آجکل تو دوسروں کے اموال کو شیر مادر سمجھا جاتا ہے۔ پھر جب آنحضرت اللہ ایسے پاکباز لوگوں کی نسبت بھی ایسے احتیاط برتتے تھے تو آجکل کے زمانہ کے لوگوں کی نسبت تو اس سے بہت زیادہ احتیاط کی جانی چاہئے۔