انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 554

انوار العلوم جلدا ۵۵۴ سيرة النبي ال صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (بخاری کتاب الدعوات باب قول النبي صلى الله عليه وسلم أتنا في الدنيا حسنة، يعني نبي كريم اكثر اوقات یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ہمیں اس دنیا میں بھی نیکی اور بھلائی دے اور آخرت میں بھی نیکی اور بھلائی عنایت فرما اور عذاب نار سے ہمیں محفوظ رکھ ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی آپ کی اس دعا کاذکر فرمایا ہے ۔ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقره: ۲۰-۲۰۲) یعنی لوگوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ الہی اس دنیا کا مال ہمیں مل جائے اور ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے رب اس دنیا کی بھلائی بھی ہمیں پہنچا اور آخرت کی نیکی بھی ہمیں پہنچا اور آگ کے عذاب سے ہمیں محفوظ رکھ ۔ م م اب اس دعا پر غور کرنے سے پتہ لگ سکتا ہے کہ آپ کس قدر احتیاط سے کام فرماتے تھے۔ عام طور پر انسان کا قاعدہ ہے کہ جو مصیبت پڑی ہوئی ہو اسی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور دوسرے تمام امور کو اپنے ذہن سے نکال دیتا ہے اور ایک ہی طرف کا ہو رہتا ہے اور اس وجہ سے اکثر دیکھا گیا بہت سے لوگ حق و حکمت کی شاہراہ سے بھٹک کر کہیں کے کہیں نکل جاتے ہیں اور سچائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ لیکن آنحضرت ایسے کامل انسان تھے کہ آپ " مصائب سے گھبرا کر ایک ہی طرف متوجہ نہ ہو جاتے تھے بلکہ ہر وقت کل ضروریات پر آپ کی نظر رہتی تھی۔ اور اس دعا سے ہی آپ کے اس کمال پر کافی روشنی پڑ جاتی ہے کیونکہ آپ صرف دنیا کے مصائب اور مشکلات کو مد نظر نہ رکھتے تھے بلکہ جب دنیاوی مشکلات کے حل کرنے کے لئے اپنے مولا سے فریاد کرتے تو ساتھ ہی مابعد الموت کی جو ضروریات ہیں ان کے لئے بھی امداد طلب کرتے ۔ اور جب قیامت کے دل ہلا دینے والے نظاروں کو اپنی آنکھوں کے سامنے لاکر خدا تعالیٰ کی نصرت کے لئے درخواست کرتے تو ساتھ ہی اس دنیا کی مشکلات کے دور کرنے کے لئے بھی جو مزرعہ آخرت ہے التجا کرتے اور کسی مشکل یا تکلیف کو حقیر نہ جانتے بلکہ نہایت احتیاط سے دنیاوی اور دینی ترقیوں کے لئے بغیر کسی ایک کی طرف سے غافل ہونے کے اللہ تعالی سے مدد مانگتے رہتے۔ علاوہ ازیں اس دعا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی دعاؤں کے الفاظ میں بھی نہایت احتیاط برتتے تھے کیونکہ آپ نے یہ دعا نہیں کی کہ یا را کی کہ یا الہی ہمیں دین اور دنیا دے بلکہ یہ دعا کی کہ