انوارالعلوم (جلد 1) — Page 546
انوار العلوم جلدا ۵۴۶ سيرة النبي محتاط تھے اور ہر معاملہ میں کمال احتیاط سے کام کرتے تھے خصوصاً اموال کے معاملہ میں آپ نہایت احتیاط فرماتے کہ کسی کا حق نہ مارا جائے اور عارضی طور پر بھی لوگوں کو حق رسی میں دیر کرنا پسند نہ فرماتے بلکہ فورا غرباء کو حقوق دلوا دیتے تھے۔ اب میں اس امر کی شہادت کے لئے ایک اور واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کے اموال کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے ایمانوں کا بھی خیال رکھتے تھے اور کبھی ایسے چندوں کو قبول نہ فرماتے جو بعد میں کسی وقت چندہ دہندگان کے لئے وبال جان ثابت ہوں یا کسی وقت اسے افسوس ہو کہ میں نے کیوں فلاں مال اپنے ہاتھ سے کھو دیا آج اگر میرے پاس ہوتا تو میں اس سے فائدہ اٹھاتا۔ مکہ میں جب تکالیف بڑھ گئیں اور ظالموں کے ظلموں سے تنگ آکر آنحضرت اللہ کو پہلے اپنے صحابہ کو دوسرے ممالک میں نکل ۔ نکل جانے کا حکم دینا پڑا اور بعد ازاں خود بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنا وطن عزیز ترک کر کے مدینہ کی طرف ہجرت اختیار کرنی پڑی تو آپ پہلے مدینہ سے کچھ فاصلہ پر بنی عمرو بن عوف کے مہمان رہے اور دس دن سے کچھ زیادہ وہاں ٹھہرے اس کے بعد آپ مدینہ تشریف لائے اور چونکہ یہاں مستقل طو طور پر رہنا تھا اس لئے مکانات کی بھی ضرورت تھی اور سب سے زیادہ ایک مسجد کی ضرورت تھی جس میں نماز پڑھی جائے اور سب مسلمان وہاں اکٹھے ہو کر اپنے رب کا نام لیں او را اور اس کے حضور میں اپنے عجز و انکسار کا اظہار کریں اور آنحضرت ہر وقت اللہ تعالیٰ ہی کے خیال میں رہتے تھے اور آپ کا ہے تھے اور آپ کا ہر ایک فعل عظمت الہی کو قائم کرنے والا تھا آپ کو ضرور بالضرور رور سب سے پہلے تعمیر مسجد کا خیال پیدا ہونا چاہئے تھا۔ چنانچہ جب آپ مدینہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے آپ نے جو کام کام کیا وہ میں تھا کہ آپ "ا۔ اوه آپ اپنے محبوب و مطلوب کے ذکر کا مقام اور اس کے حضور گرنے اور عبادت کرنے کی جگہ تیار کریں۔ ا جو ہرو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ہمارے مطاع و آقا خاتم النبين ال کی زوجہ مطہرہ تھیں آپ نے ایک طویل حدیث میں تمام واقعہ ہجرت مفصل بیان فرمایا ہے ۔ آپ فرماتی ہیں فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بِضْعَ عَشَرَةَ لَيْلَةً وَأَسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِى أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى وَصَلَّى فِيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّى بَرِكَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلِّي فِيْهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مِرْبَدُ اللتَّمْرِ لِسُهَيْلِ وَسَهْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرٍ سَعَدِ بْنِ