انوارالعلوم (جلد 1) — Page 522
انوار العلوم جلدا ۵۲۲ سيرة النبي ال بات بظاہر بالکل معمولی معلوم ہوتی ہے کہ واعظ تو بدیوں سے بچتے ہی ہوں گے لیکن دراصل یہ ایک نہایت مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس پر چل کر بہت کم لوگ ہی منزل مقصود کو پہنچتے ہیں اور ابتداء دنیا سے آج تک جس قدر واعظ ایسے گزرے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ دوسروں کو کہا اس پر خود بھی عامل ہوئے ان کے سردار اور رئیس ہمارے آنحضرت ا تھے آپ کی ساری زندگی میں ایک بات بھی ایسی نہیں ملے گی کہ آپ کی اور دوسروں کی مصلحتیں ایک ہی ہوں مگر پھر بھی آپ نے دوسروں کو اور حکم دیا ہو اور اپنے لئے کچھ ا کے کچھ اور ہی تجویز کر لیا ہو۔ بعض اوقات خود صحابہ صحابه ۔ چاہتے تھے کہ آپ آرام فرما ئیں اور اس قدر محنت نہ کریں لیکن آپ قبول نہ فرماتے ۔ اگر لوگوں کو عبادت الہی کا حکم دیتے تو خود بھی کرتے اگر لوگوں کو بدیوں سے روکتے تو خود بھی رکتے غرضیکہ آپ نے جس قدر تعلیم دی ہے ہم بغیر کسی منکر کے انکار کے خوف کے کہہ سکتے ہیں کہ اس پر آپ خود عامل تھے اور شریعت اسلام کے جس قدر احکام آپ کی ذات پر وارد ہوتے تھے سب کو نہایت کوشش اور تعمد کے ساتھ بجالاتے مگر اس وقت جس بات کی طرف خاص طور سے میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ بد ؟ ہتا ہوں وہ بدی سے نفرت ہے۔ اعمال بد تو انتہائی درجہ ہے ادنی درجہ تو بد اخلاقی اور بد کلامی ہے جس کا انسان مر تکب ہوتا ہے اور جب اس پر دلیر ہو جاتا ہے تو پھر اور زیادہ جرات کرتا ہے اور بد اعمال کی طرف راغب ہوتا ہے لیکن جو شخص ابتدائی نقائص سے ہی پاک ہو وہ دوسرے سخت ترین نقائص اور کمزوریوں میں کب بتلا ہو سکتا ہے اور میں انشاء اللہ تعالیٰ آگے جو کچھ بیان کروں گا اس سے معلوم ہو جائے گا کہ آپ کیسے پاک تھے اور کس طرح ہر ایک نیکی میں آپ دوسرے بنی نوع پر فائق و بر تر تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن الله فرماتے ہیں لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشَا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقاً بخاري كتاب المناقب باب صفة النبي صلى الله عليه وسلم نبی کریم ا نہ بد خلق تھے نہ بد گو اور فرمایا کرتے تھے کہ تم میں بہتر وہی ہیں جو تم سے اخلاق میں افضل ہوں۔ اللہ اللہ کیا پاک وجود تھا۔ آپ حسن اخلاق برتتے تب لوگ برتتے تب لوگوں کو نصیحت کرتے ۔ آ۔ - آپ بد کلامی سے بچتے تب دوسروں کو بھی اس سے بچنے کے لئے حکم دیتے اور یہی وہ کمال ہے کہ جس کے حاصل ہونے کے بعد انسان کامل ہو سکتا ہے اور اس کی زبان میں اثر پیدا ہوتا ہے اب لوگ چلا چلا کر مر اثر چلا جاتے ہیں کوئی سنتا ہی نہیں۔ نہ ان کے کلام میں اثر ہوتا ہے نہ کوشش میں برکت۔ اس کی وجہ یہی