انوارالعلوم (جلد 1) — Page 514
انوار العلوم جلدا ۵۱۴ سيرة النبي بھی ان کی زندگی میں ذکر الہی کی یہ کثرت نہ پائی جائے گی۔ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کا مطالعہ جس غور سے رسول کریم اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اور کسی انسان نے نہیں کیا۔ اسی لئے جس محبت سے آپ اپنے پیارے کا نام لیتے تھے اور کسی انسان نے نہیں لیا۔ ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کے محبین اور ذاکرین میں بڑے بڑے لوگ ہوتے ہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ آپ جیسازا کر اور محبت اور کوئی نہیں مل سکتا۔ سوائے شاذ و نادر کے عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انسان موت کے وقت بھی خدا ہی یاد تھا اپنی زندگی پر حریص ہوتا ہے حتی کہ ڈاکٹروں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص خود کشی کرتا ہے وہ ضرور پاگل ہو جاتا ہے یا خود کشی کے وقت اسے جنون کا دورہ ہوتا ہے ورنہ عقل و خرد کی موجودگی میں انسان ایسا کام نہیں کرتا۔ جب موت قریب ہو تو اس وقت تو اکثر آدمی اپنے مشاغل کو یاد کر کے افسوس کرتے ہیں کہ اگر اور کچھ دن زندگی ہوتی تو فلاں کام بھی کر لیتے اور فلاں کام بھی کر لیتے جوانی میں اس قدر حرص نہیں ہوتی جس قدر بڑھاپے میں ہو جاتی ہے اور یہی خیال دامنگیر ہو جاتا ہے کہ اب بچوں کے بچے دیکھیں اور پھر ان کی شادیاں دیکھیں اور جب موت قریب آتی ہے تو اور بھی توجہ ہو جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کا بستر مرگ دیکھا گیا ہے کہ حسرت داندوہ کا مظہر اور رنج و غم کا مقام ہوتا ہے اور اگر “ اور ”کاش کا اعادہ اس کثرت سے کیا جاتا ہے کہ عمر بھر میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مرنے والا پے در پے اپنی خواہشات کا ذکر کرتا ہے اور اپنے وقت کو وصیت میں صرف کرتا ہے میرے فلاں مال کو فلاں کے سپرد کرنا اور میری بیوی سے یہ سلوک کرنا اور بیٹیوں سے یوں حسن سلوک سے پیش آنا فلاں سے میں نے اس قدر روپیہ لینا ہے اور فلاں کو اس قدر دینا ہے غرض اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جو روزانہ ہر گھر میں دوہرائی جاتی ہیں اور چونکہ موت کا سلسلہ ہر جگہ لگا ہوا ہے اور ہر فرد بشر کو اس دروازہ سے گزرنا پڑتا ہے اس لئے تمام لوگ ان کیفیات کو جانتے ہیں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میرا آقا جہاں اور ہزاروں باتوں میں دوسرے انسانوں سے اعلیٰ اور مختلف ہے وہاں اس بات میں بھی دوسروں سے بالا تر ہے۔ اس میرے سردار کی موت کا واقعہ کوئی معمولی سا واقعہ نہیں کس گمنامی کی حالت سے ترقی پاکر اس نے اس عظیم الشان حالت کو حاصل کیا تھا اور کس طرح خدا تعالٰی نے اسے ہر دشمن پر فتح دی تھی اور ہر میدان میں غالب کیا تھا۔ ایک بہت بڑی حکومت کا مالک اور