انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 492

انوار العلوم جلدا ۴۹۲ سيرة النبي تھے آپ کی نظریں دنیا کی طرف نہیں لگی ہوئی تھیں بلکہ آپ کی آنکھ خدا کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔ دنیا کے اسباب آپ کے مد نظر نہ تھے اور آپ یہ خیال نہ کرتے تھے کہ ایسے وقت میں میں تن تنہا صرف ایک ساتھی کے ساتھ کیا کر سکتا ہوں اور ایسے خطرناک راستہ میں اگر دشمن آجائے تو اس کے مقابلہ کے لئے میرے پاس کیا سامان ہیں بلکہ آپ یہ دیکھ رہے تھے کہ میرے ساتھ وہ خدا ہے جو ہمیشہ سے اپنے نیک بندوں کا محافظ چلا آیا ہے اور جس کے وار کا کوئی دشمن مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ خدا نوح کا خدا ابراہیم کا خدا موسی کا خدا یونس کا خدا ایوب کا خدا داؤد کا خدا سلیمان کا خدا، مسیح کا خدا تھا وہی میرا خدا ہے اس کی طاقتیں کبھی زائل نہیں ہوتیں اور وہ ایک دم کے لئے غافل نہیں ہے سراقہ بن جشم لالچ اور دشمنی سے دیوانہ ہو کر آتا ہے اور دور سے دیکھ کر آپ کی طرف گھوڑا دوڑا دیتا ہے اس کے دل میں امید دریا کی طرح لہریں مارتی ہے۔ وہ نہ صرف اپنے مذہب کی توہین کرنے والے کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ کر اپنے سوختہ دل کو تسکین دینا چاہتا ہے بلکہ دو سو اونٹ کا انعام جو اسے اپنی قوم میں ایک بہت بڑارتبہ دینے کے لئے کافی تھے اس کی ہمت کو اور بھی بلند کر دیتا ہے جس طرح شکاری اپنے شکار کو دیکھ کر پکتا ہے اسی طرح وہ رسول کریم کو دیکھ کر آپ کی طرف لپکتا ہے اور تیر کمان ہاتھ میں لے کر چاہتا ہے کہ آپ پر وار کرے وہ اکیلا نہیں بلکہ ایک نعرہ مار کر وہ اپنے ارد گرد ہزاروں آدمیوں کو جمع کر سکتا ہے کیونکہ رسول کریم اس وقت اس کے لاقہ سے گزر رہے ہیں۔ لیکن آپ اس وقت کیا کرتے ہیں کیا بھاگ جاتے ہیں کیا ڈر کر اپنے آپ ۔ کو اس کے سپرد کر دیتے ہیں کیا آپ کے قدم لڑکھڑانے لگ جاتے ہیں۔ کیا ان کے حواس بیکار ہو جاتے ہیں۔ کیا اسے قتل کر کے راہ فرار اختیار کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ نہیں وہ خدا پر توکل کرنے والا انسان ان میں سے ایک بات بھی نہیں کرتا اور سراقہ کی اتنی پر واہ بھی نہیں کرتا جتنی ایک بیل کی کی جاتی ہے حضرت ابو بکر بار جود اس جرأت اور بہادری کے باوجود اس ایمان اور یقین کے باوجود اس تو کل اور بھروسہ اور بھروسہ کے جو آپ میں پایا جاتا تھا مڑ مڑ کر دیکھتے جاتے ہیں کہ سراقہ اب ہمارے کس قدر نزدیک آگیا ہے لیکن رسول کریم اس کی پرواہ بھی نہیں کرتے اور گھبرانا اور دوڑناتو الگ خوف و ہر اس کا اظہار تو جدا آپ نے ایک دفعہ منہ پھیر کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا جس نے سراقہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور اس کی آنکھیں کھل گئیں کہ میں کسی انسان کا پیچھا کر رہا ہوں اور وہ مدت العمر اس نظارہ کو اپنے حافظہ سے نہیں مٹا سکا بلکہ اس خلاف معمول واقعہ نے اس کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ ہمیشہ اس ا سے بیان کرتا تھا اور کہتا تھا کہ سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ