انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 485

انوار العلوم جلدا ۴۸۵ سيرة النبي المالية رہتے میں آپ کو سلام کرتا پھر مجھے شبہ رہتا۔ آپ نے (مبارک) ہونٹ ہلا کر مجھ کو سلام کا جواب بھی دیا یا نہیں۔ پھر میں آپ کے قریب کھڑے ہو کر نماز پڑھتا رہتا اور دزدیدہ نظر سے آپ کو دیکھتا آپ کیا کرتے جب میں نماز میں ہوتا تو مجھ کو دیکھتے اور جب میں آپ کو دیکھتا تو آپ منہ پھیر لیتے جب اسی طرح ایک مدت گزری اور لوگوں کی روگردانی دو بھر ہوگئی تو میں چلا اور ابو قتادہ اپنے چچا زاد بھائی کے باغ کی دیوار پر چڑھا اس سے مجھ کو بہت محبت تھی میں نے اس کو سلام کیا تو خدا کی قسم اس نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ میں نے کہا ابو قتادہ تجھ کو خدا کی قسم تو مجھ کو اللہ اور اس کے رسول کا ہوا خواہ سمجھتا ہے یا نہیں) جب بھی اس نے جواب نہ دیا میں نے پھر قسم دے کر دوبارہ یہی کہا لیکن جواب ندارد پھر تیسری بار قسم دے کر یہی کہا تو اس نے یہ کہا کہ اللہ اور رسول خوب جانتے ہیں بس اس وقت تو مجھ سے رہا نہ گیا) میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور پیٹھ موڑ کر دیوار پر چڑھ کر وہاں سے چل دیا۔ میں ایک بار مدینہ کے بازار میں جارہا تھا اتنے میں ملک شام کا ایک (نصرانی) کسان ملا جو مدینہ میں اناج بیچنے لایا تھا وہ کہہ رہا تھا لو گو کعب بن مالک کو بتلاؤ ۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا اس نے غسان کے بادشاہ کا (جو نصرانی تھا) ایک خط مجھ کو دیا مضمون یہ تھا۔ مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے پیغمبر صاحب نے تم پر ستم کیا ہے اللہ تعالیٰ نے تم کو ایسا ذلیل نہیں بنایا ہے نہ بیکار ( تم تو کام کے آدمی ہو) تم ہم لوگوں سے آن کر مل جاؤ ہم تمہاری خاطر مدارت بخوبی کریں گے۔ میں نے جب یہ خط پڑھا تو (اپنے دل میں کہنے لگا) یہ ایک دوسری بلاء ہوئی۔ میں نے وہ خط لے کر آگ کے تنور میں جھونک دیا ۔ ابھی پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزری تھیں کہ آنحضرت کا پیغام لانے والا (خزیمہ بن ثابت) میرے پاس آیا کہنے لگا آنحضرت کا یہ حکم ہے تم اپنی جو رو (عمیرہ جو رو (عمیرہ بنت جبیر) سے ؟ ) سے بھی الگ رہو۔ میں نے پو در ہو۔ میں نے پوچھا کیا اس کو طلاق دے دوں یا کیسا کروں اس نے کہا نہیں اس سے الگ رہو صحبت وغیرہ نہ کرو۔ میرے دونوں ساتھیوں کو بھی یہی حکم کیا۔ آخر میں نے اپنی جو رو سے کہہ دیا نیک بخت تو اپنے کنبے والوں میں چلی جا۔ وہیں رہ جب تک اللہ میرا کچھ فیصلہ نہ کرے (وہ چلی گئی) کعب نے کہا ہلال ابن امیہ کی جو رو (خولہ بنت عاصم) آنحضرت کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ہلال ابن امیہ (میرا خاوند) بوڑھا پھونس ہے اگر میں اس کا کام کرتی رہوں تو کیا آپ اس کو برا سمجھتے ہیں آپ نے فرمایا ۔ نہیں ( کام کاج کرنے میں قباحت نہیں) پر وہ تجھ سے صحبت نہ کرے اس نے کہا خدا کی قسم وہ تو کہیں چلتا پھرتا بھی نہیں ہے جب سے یہ واقعہ ہوا ہے تب سے برابر رو دھو رہا ہے آج تک وہ اسی حال میں ہے کعب نے کہا مجھ سے بھی