انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 22

انوار العلوم جلد 1 ۲۲ محبت الهی محبت یا نفرت کرے۔ اب یہ دیکھنا چاہئے کہ انسان کا مشاہدہ جہاں تک ہے اور جہاں تک انسانی عقل کام کر سکتی ہے یہ بات سنت اللہ سے ثابت ہوئی ہے کہ جہاں گل ہے وہاں خار ہونا ضروری ہے اور جہاں صحت ہے وہاں بیماری بھی لازم ہے اور جہاں راحت ہے وہاں غم بھی دروازہ پر سمجھنا چاہئے اور یہ کہ جہاں کسی چیز سے محبت ہے اس کی ضد سے نفرت بھی لازمی امر ہے۔ پس جیسا کہ انسان کی پیدائش میں خدا تعالیٰ نے محبت رکھی ہے ایسا ہی ایک حصہ نفرت کا بھی رکھا گیا ہے اور اس سے یہ ضروری ٹھہرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے محبت کی جائے تو غیر اللہ سے نفرت بھی ہو یا یہ کہ جب ستی اور کسل اور بد طینتی اور بد بختی اس کے ساتھ دامن گیر ہو جائیں اور اس کے دل میں غیر اللہ کے لئے محبت پیدا ہو جائے تو لازم و ملزوم کی طرح ہو گا کہ اس بد بخت کو خدائے قادر اور پیدا کننده زمین و آسمان سے نفرت پیدا ہو جائے ۔ گو کہ یہ نفرت بوجہ اس زنگ کے ہو جو اس کے دل پر اس کی شامت اعمال کی وجہ سے لگ گیا ہے غیر اللہ کی محبت وہ محبت نہیں جو کسی انسان سے کی جائے بلکہ وہ محبت ہے جو خدا کے مقابلہ میں کسی اور سے کی جائے ۔ ایک انسان سے محبت کرنا اس لئے کہ ہم کو خدا تعالیٰ نے بھائی بھائی بنایا ہے اور حکم دیا ہے کہ آپس میں محبت سے اور پیار سے رہو اور ایک دوسرے کی اس کے تکلیف کے وقتوں میں مدد کروا وقتوں میں مدد کرو اور یہ کہ اپنے بھائیوں پر احسان کرو ایک ثواب کا کام اور نیکی کی چیز ہے ۔ مگر جو محبت اس لئے کی جاتی ہے کہ اس سے کچھ دنیاوی خواہشیں پوری کی جائیں یا شیطانی وساوس کو ترقی دی جائے یا یہ کہ اس محبت میں کسی خدا تعالیٰ کے حکم کے بر خلاف کیا جائے پس ایسی محبت غیر اللہ کی محبت ہے ۔ اور وہ دن دور نہیں کہ ایسے شخص جو اس قسم کی محبت کرنے والے ہیں اسی دنیا میں پیشتر اس کے کہ ان کی موت کا زمانہ آئے اور وہ خالق حقیقی ان کو رو برد بلائے تاکہ ان سے حساب طلب کیا جائے اس انجام کو دیکھ لیں جو کہ غیر اللہ کی محبت کا ہوتا ہے۔ اس جگہ میں کسی قدر محبت کی تشریح کرتا ہوں ۔ محبت ایک جذبہ تو ہے لیکن جذبہ خلقی ہے جو کہ انسان کے پیدا ہونے سے لے کر اس کی موت تک بلکہ ایک نامعلوم زمانہ تک اس کے ساتھ ساتھ جاتا اور ہر جگہ اس کے کام آتا ہے یہ کچھ ایسا ز بر دست جادو ہے جس کو ایک انسان سمجھ نہیں سکتا کہ کیا ہے اور کیونکر پیدا ہوتا ہے۔ بارہا دیکھا جاتا ہے کہ ایک چیز کی طرف قدر تا میلان طبیعت بڑھتا جاتا ہے اور یہاں تک کہ سوائے اس کے کچھ نظر نہیں آتا اور ہر وقت اس چیز کا خیال دامن گیر رہتا ہے اور خود محبت کرنے والا نہیں جانتا کہ میں اس چیز سے محبت کیوں کرتا ہوں اور کیا وجہ ہے کہ میری طبیعت باوجود اس کے کہ میں اس کو اس طرف سے ہٹانا بھی چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں