انوارالعلوم (جلد 1) — Page 474
انوار العلوم جلد ا سيرة النبي دھو دے اور میرے دل کو ایسا صاف کر دے کہ جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا ہے اور مجھ میں اور گناہوں میں اتنا فاصلہ حائل کر دے جتنا تو نے مشرق و مغرب میں رکھا ہے ۔ اے وہ انسان جسے رسول کریم ﷺ سے عداوت ہے تو بھی ذرا اس دعا کو غور سے پڑھا کر اور دیکھ کہ وہ گناہوں سے کس قدر متنفر تھے ۔ وہ بدیوں سے کس قدر بیزار تھے ۔ وہ کمزوریوں سے کسی طرح بری تھے۔ وہ عیبوں سے کس قدر پاک تھے اور ان کا دل خشیت الہی سے کیسا پر تھا فَتَدَبَّرُ وَاهْتَدِ بِهُداهُ ۔ غیرت دینی اس ابات کے بنانے کے بعد کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی اور آپ آپ کا کا ہر ہر فعل فعل خشیت الہی کی ایک زندہ مثال ہے میں آپ کی غیرت دینی کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ بہت سے لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق کے نمونہ دکھاتے ہیں مگر یہ اخلاق اس وقت تک ظاہر ہوتے ہیں جب تک انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے ۔ ذرا ان کے منشاء کے خلاف کوئی بات ہو اور ان کی آنکھیں لال پیلی ہو جاتی ہیں اور منہ سے جھاگ آنی شروع ہو جاتی ہے۔ اور اگر اشارہ بھی کوئی انہیں ایسی بات کہہ بیٹھے جس میں وہ اپنی ہتک سمجھتے ہوں تو وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے بلکہ ہر ممکن سے ممکن طریق سے اس کا بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور جب تک مد مقابل سے بدلہ نہ لے لیں انہیں چین نہیں آتا۔ مگر انہیں لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ جب خدا اور رسول کی کوئی ہنگ کرتا ہے تو اسے بڑی خوشی سے سنتے ہیں اور ان کو وہ قطعا بری نہیں معلوم ہوتی اور ایسی مجلسوں میں اٹھنا بیٹھنا نا پسند نہیں کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وقت ان سے بھی کوئی غلطی ہو جاتی ہے اور اس طرح ان کا دین بر باد ہو جاتا ہے۔ جتنے اخلاق اخلاق اور تہذیب تہذیب پکارنے والے لوگ ہیں ان کی زندگیوں کا مطالعہ کر کے دیکھ لو ضرور ان میں یہ بات پائی جائے گی کہ دوسروں کے معاملہ میں اور خصوصاً دین کے معاملہ میں غیرت کے اظہار کو وہ بد خلقی اور بد تہذیبی قرار دیتے ہیں مگر اپنے معاملہ میں ان کا معیار اخلاق ہی اور ہے اور وہاں اعلیٰ اخلاق سے کام لینا ان کے لئے نا ممکن ہو جاتا ہے۔