انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page v of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page v

1 بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ سید نا حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کا وجود اللہ تعالی کے نشاء مبارک اور اس کے عظیم وعدوں کے مطابق ظہور میں آیا۔ حضور کا عہد خلافت ایک ایسا تاریخ ساز دور تھا جو نصف صدی کے عرصہ پر ممتد رہا۔ اس طویل اور کامیاب دور میں جہاں حضور نے اپنی پر معارف تقاریر و خطبات اور تصانیف کے ذریعہ بنی نوع انسان کو علم و معرفت کی دولت سے مالا مال فرمایا وہاں جماعت کی تربیت و اصلاح اور رشد و ہدایت کا ایسا یادگار خزانہ چھوڑا جس کی افادیت اور عظمت دائمی حیثیت رکھتی ہے اور جو پیشنگوئی مصلح موعود کے الہامی الفاظ :- پر شاہد ناطق ہے۔ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا" حضرت مصلح موعود ہنوز ۲۵ سال کے ہی تھے کہ خلافت و امامت کا بارگراں آپ کے کندھوں پر ڈالا گیا۔ یہ ذمہ داری اتنی اہم اور کٹھن تھی کہ عام انسان کی وسعت خیال اس تک پہنچنے سے قاصر رہتی ہے لیکن چونکہ آپ کے بارہ میں الہی بشارت تھی کہ :- خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا" " آپ نے مسلسل ۵۲ سال تک خلافت احمدیہ کی عظیم ذمہ داریوں کے عظیم ذمہ داریوں کو نہایت خوش -1- خوش اسلوبی سے نبھایا اور جماعت کی روز افزوں ترقی اور فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعدد منصوبے شروع فرمائے۔ اس حال میں کہ مختلف حلقوں سے مخالفت کی آندھیاں اور طوفان بھی اٹھائے جاتے رہے ۔ اندرونی اور بیرونی فتنے سمندر کی لہروں کی طرح جو ایک کے بعد دوسری اور دوسری سے بڑھ کر تیسری ۔۔۔ 52 سال تک برابر اٹھتے رہے۔ مگر خدائی سایہ کی برکت سے آپ کے ظاہری اور باطنی علوم کے نشانات برابر جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوتے رہے۔ حضرت فضل عمر ایسی ہی بعض یادوں کو تازہ کرتے ہوئے تحدیث نعمت کے