انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 470

انوار العلوم جلد ا ۴۷۰ سيرة النبي الله موت کا خیال آنحضرت ہوتے سے کسی وقت را غافل نہ رہتے اور خشیت الہی آپ پر اس قدر غالب تھی کہ ہر روز یہ ! کہ ہر روز یہ یقین کر کے سوتے کہ شاید آج ہی مہ موت آ جاوے اور آج ہی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا پڑے اور اس لئے آپ ایک ایسے مسافر کی طرح رہتے تھے جسے خیال ہوتا ہے کہ ریل اب ۔ اب چلی کہ چلی وہ کبھی اپنے آپ کو ایسے کام میں نہیں پھنسیا تا کہ جے چھوڑنا مشکل ہو۔ آپ بھی ہر وقت اپنے محبوب کے پاس جانے کیلئے تیار رہتے اور جو دم گزرتا اسے اس کے فضل کا نتیجہ سمجھتے اور موت کو یاد رکھتے ۔ حذیفہ بن الیمان فرماتے ہیں كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ آمُوتُ وَأَحْيَا وَإِذَا قَامَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ بخاری کتاب الدعوات باب وضع اليد تحت الخد اليمن ) رسول کریم کی عادت تھی کہ جب آپ اپنے بستر پر لیٹتے اپنے رخسار کے نیچے اپنا ہاتھ رکھتے اور فرماتے اے میرے مولا میرا مرنا اور جینا تیرے ہی نام پر ہو اور جب سو کر اٹھتے تو فرماتے شکر ہے میرے رب کا جس نے ہمیں زندہ کیا مارنے کے بعد۔ اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر رات جب بستر پر جاتے تو اپنی طرف سے حساب ختم کر جاتے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتے کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو تب بھی تیرے ہی نام پر میری زندگی ہو اور جب اٹھتے تو خدا تعالیٰ کے احسان پر حمد کرتے کہ میں تو اپنی طرف سے نیا سے علیحدہ ہو چکا تھا تیرا ہی فضل ہوا کہ تو نے پھر مجھے زندہ کیا اور میری عمر میں برکت دی۔ ح ایک اور مثال جس طرح مذکورہ بالا دا سے معلم ہوتا ہے کہ رسول کریم ہر وقت موت کو یاد رکھتے تھے اسی طرح مذکورہ ذیل دعا بھی اس بات پر شاہد ہے کہ آپ اپنی زندگی کی ہر گھڑی کو آخری گھڑی جانتے تھے اور جب آپ سونے لگتے تو اپنے رب سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کر لیتے اور گویا ہر ایک تغیر کیلئے تیار ہو جاتے ۔ چنانچہ براء بن عازب کی روایت ہے کہ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اوَى إِلى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَى شِقِهِ أَلَا يُمَنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَ وَ جَهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَالْجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَا وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِى اَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ (بخاری کتاب الدعوات باب النوم على الشق الايمن ) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر جا کر لیٹتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے پھر فرماتے اے میرے رب میں اپنی جان تیرے سپرد کرتا ہوں اپنی سب توجہ تیری ہی طرف پھیرتا ہوں۔ میں اپنا معاملہ تیرے ہاتھوں میں دیتا ہوں ۔