انوارالعلوم (جلد 1) — Page 465
انوار العلوم جلد ) ۴۶۵ سيرة النبي ال الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَ وَعَدَ فَاخْلَفَ (بخاري) كتاب الصلوۃ باب الدعاء قبل السلام) اے میرے خدا میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں پناہ مانگتا ہوں مسیح الدجال کے فتنہ سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے اے میرے رب میں پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرضہ سے اس دعا کو سنکر ایک شخص نے پوچھا کہ آپ قرضہ سے اس قدر کیوں پناہ مانگتے ہیں۔ فرمایا کہ جب انسان قرضدار ہو جاتا ہے تو بات کرتے وقت جھوٹ بول جاتا ہے اور وعدہ کر کے اس کے خلاف کرتا ہے۔ کیسی پاک دعا ہے آپ کے اندرونہ پر کیسی روشنی ڈالتی ہے اور اس سے کیسا کھلا کھلا ظاہر ہو جاتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کیسے خائف تھے ۔ کس طرح اس کے حضور گرتے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے پھر اسی سے عرض کرتے کہ مجھ سے تو کچھ نہیں ہو سکتا تو خود ہی فضل کر۔ بڑوں اور چھوٹوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔ جن کے پاس کچھ خدا تعالیٰ کے غناء سے خوف ہوتا ہے وہ کیے منکسر المزاج ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ جیسے انسان اور ختم نبوت کا دعوئی ، قرآن شریف جیسی کتاب اتر رہی ہے۔ نصرت الہی کی وہ بھرمار ہے کہ دشمن و دوست حیران ہیں۔ ہر گھڑی پیار و محبت کے اظہار ہو رہے ہیں۔ حتی کہ بارگاہ خداوندی سے قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران : ۳۲) کا حکم جاری وتا ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کی شان میں فرماتا ہے کہ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللَّهَ الفتح (1) اور اسی طرح ارشاد ہوتا ہے کہ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (انجم :۱۰) لیکن خشیت الہی کا یہ حال ہے کہ آپ فرماتے ہیں وَ اللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ ا لَى اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي خدا کی قسم میں نہیں جانتا باوجود اس کے کہ میں خدا کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ سچ ہے کہ جسے جتنا قرب شاہی نصیب ہوتا ہے اسی طرح وہ خائف بھی زیادہ ہوتا ہے۔ ادھر تو اس بادشاہ دو جہاں کا اللہ تعالیٰ کی خشیت میں یہ کمال تھا ادھر ہم آجکل فقراء کو دیکھتے ہیں کہ ذرا کوئی بات ہوئی اور کہتے ہیں کہ الٹادوں طبقہ زمین و آسمان ۔ ایک ہاتھ میں سوٹا اور ایک ہاتھ میں کشکول گدائی لئے پھرتے ہیں۔ بدن پر ہندو فقیروں کی طرح راکھ ملی ہوئی ہوتی ہے معرفت الہی سے بالکل بے بہرہ نعوذ بالله ہوتے ہیں۔ قرآن شریف پر عمل تو الگ رہا ایک آیت بھی پڑھ نہیں سکتے لیکن دعاوی دیکھو تو کہو کہ باللہ اللہ تعالیٰ سب کاروبار خدائی انہیں سپرد کر کے آپ علیحدہ ہو گیا ہے یہ پ علیحدہ ہو گیا ہے یہ تو جہلاء کا گروہ ہے پیروں کی بھی ایسی ہی حالت ہے بعض تو فقط اپنی بہشت تو الگ رہی اپنے دستخطی رقعوں پر دوسروں